الجواب حامداًومصلیاً
گھریلو درختوں کے پھلوں اور سبزیوں میں مفتیٰ بہ قول کے مطابق عشر واجب تو نہیں ہے البتہ چونکہ مسئلہ امام و صاحبین رحمھمااللہ کے درمیان مختلف فیہ ہے اس لیے صاحب استطاعت لوگوں کو احتیاطاً اس کا بھی عشر دے دینا چاہیے۔
لمافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/277،فاروقیہ)
ولو کان فی دار رجل شجرۃ وفی الینابیع مثمرۃ لایجب فی ذلک عشر وان کان تلک البلدۃ عشریۃ
وفی بدائع الصنائع:(2/18،رشیدیہ)
ویجب العشرفی قلیلہ و کثیرہ فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی لانہ ملحق بالنماء و یجری مجری الثمار والنصاب لیس بشرط فی ذلک عندہ وعندھما شرط ۔۔۔۔ومایوجد فی الجبال من العسل والفواکہ فقد روی محمد عن ابی حنیفۃ رحمھ اللہ تعالی ان فیہ العشر وروی اصحاب الاملاء عن ابی یوسف انہ لاشئ فیہ
وکذافی الھندیة:(1/186،رشیدیہ
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/247،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(148،زمزم)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/273،ادارة القران)
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(4/91،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/200،حرمین شریفین)
وکذافی التجنیس والمزید:(2/347،ادارة القران)
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25/7/1443-2022/2/27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:3