الجواب حامداًومصلیاً
انشورنس کمپنیوں کے موجودہ طریقہ کار میں “سود” اور بسا اوقات “جُوا اور دھوکہ” کے پائے جانے کی وجہ سے جائز نہیں۔
‘سود’ اس طرح ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کو کم رقم اس شرط پر دے کہ دوسرا فریق اس رقم کے بدلہ اسے کچھ بڑھا کر دے گا، انشورنس کے اندر کم پریمیم کے بدلہ زیادہ رقم کی پالیسی خریدی جاتی ہےاور ‘جُوا’ یہ ہے کہ معاملہ اس طرح ہو کہ کسی غیر یقینی واقعے کی بنیاد پر ایک کا مال بلا معاوضہ دوسرے کے پاس چلا جائے، یعنی یا تو یہ مال ڈوب جائے گا یامزید مال حاصل ہونے کا ذریعہ بنے گا اور ‘دھوکہ’ اس طرح کہ معلوم نہیں کتنی رقم واپسی ہو گی؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جتنی رقم دی ہے وہی مع سود ملے اور یہ بھی ہو سکتا ہے حادثے کی صورت میں زیادہ رقم مل جائے۔
لمافی القرآن المجید:(مائدة/90)
یاایھا الذین اٰمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون
وفی بحوث قضایا فقہیة معاصرة:(2/187،معارف القران)
اتفق معٖظم العلماء المعاصرین والمجامع والندوات الفقہیۃ علی حرمۃ التأمین التجاری التقلیدی، لما یشمل علیہ من الغرر والقمار والربا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5089،رشیدیہ)
ان عقد التأمین التجاری اذا القسط الثابت الذی تتعامل بہ شرکات التأمین التجاری عقد فیہ غرر کبیر مفسد للعقد، ولذا فھو حرام شرعا۔
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1443-2022/2/12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:155