سوال

کہ خطبہ جمعہ میں ”الصدق ینجی والکَذِبُ۔۔۔۔الخ“جملے میں لفظ”الکَذِبُ “کو بکسر العین پڑھتے ہیں جبکہ چھٹے کلمے میں”من الشرک والکِذبِ“بسکون العین پڑھتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا دونوں جگہ پر دونوں طرح سے پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما

الکَذِبُ اور الکِذبُ دونوں کَذَبَ کے مصدر ہیں اور دونوں کا معنیٰ ایک ہی ہے”جھوٹ بولنا“، لہذا دونوں جگہ پر دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے۔

لما فی القاموس المحیط (1/281،دار احیاء تراث العربی)
” کَذَبَ: یَکْذِبُ کَذِبًا وَ کِذْبًا وَکِذْبَۃً وَ کِذَابًا․“
وفی المعجم الوسیط (780،الادارۃ للمعجمات)
”(کَذَبَ: کَذِبًا، وَکِذْبًا،وَ کِذَابًا اخبر عن الشیئ بخلاف ما ھو علیہ فی الواقع․“
وکذا فی المحیط فی اللغہ(6/237،عالم الکتب)
وکذا فی القاموس الوحید(1115،ادارہ اسلامیات)
وکذا فی القاموس الجدید (608،ادارہ اسلامیات)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
28/4/1443-2021/12/4
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:150

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔