الجواب حامداًومصلیاً
نفل نماز بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہے لیکن ثواب آدھا ملے گا بنسبت کھڑے ہو کر پڑھنے کے۔
لمافی بدا ئع الصنائع:(2/19،رشیدیہ)
یجوز التطوع قاعداً مع القدرۃ علی القیام، ولا یجوز ذلک فی الفرض، لان التطوع خیر دائم ، فلو الزمنا ہ القیام یتعذر علیہ ادامۃ ھذا الخیر
وفی الفتاویٰ الھندیہ:(1/114،رشیدیہ)
ویجوز ان یتنفل القادر علی القیام قاعداً بلا کراھۃ فی الاصح
وکذافی التنویر والدر:(2/584،رشیدیہ) وکذافی البحر الرائق:(2/110،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتا ر خانیہ:(2/290،فاروقیہ) وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1069،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق :(1/304،قدیمی کتب خانہ) وکذافی المحیط البرھانی:(2/220،ادارہ القرآن)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/8/1443-2022/3/20
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:46