الجواب حامداومصلیا
مرتد ہونے سے پہلے حالت اسلام میں جو عبادات چھوڑی ہیں اُن کی قضاء لازم ہو گی،اسی طرح حقوق العباد بھی ساقط نہیں ہونگے،البتہ مرتد ہونے کی حالت میں جوحقوق چھوٹے ہیں،اُن کی قضاء نہیں کرے گا۔
لمافی الفقہ الحنفی:(3/97،الطارق)
وتبطل عبادتہ وعلیہ قضاء ماترک من عبادۃ فی إلاسلام کالصلاۃ والصیام لان ترکھامعصیۃوالمعصیۃ تبقی بعد الردۃوعلیہ قضاء الحج لانہ بالردۃ کالکافرالاصلی،فاذا اسلم وھو غنیی فعلیہالحج،لان سببہ البیت الحرام وھو باق بخلاف غیرہ من العبادات التی اداھا لخروج سببھا ولھذالوصلی الظھر مثلا ثم ارتد ثم تاب فی وقت الظہر فعلیہ ان یعید صلاۃ الظھر لبقاء سببہ وھوالوقت
ویواخذالمرتدبحقوق العبادالتی لزمتہ قبل الردۃ،أمابعدالردۃفلایؤاخذبشیٕ منذلک لأن الکافرالحربی لایواخذ بعدالاسلام بماکان اصابہ حال کونہ محاربالنافانّ الاسلایجب ماکان قبلہ وتصح تصرفات المرتد لانھا لاتقبل کما مرمعناواکسابھا مطلقا لورثتھا سواء کانت فی الاسلام او الردۃ
وکذافی الخانیة:(3/582،رشیدیہ)
رجل ارتد والعیاذ باللّٰہ تعالی وعلیہ قضاء صلوات اوصیامات ترکھا فی حالۃ الاسلام ثم اسلم بعد ذلک قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اللّٰہ تعالی یقضی ماترک فی الاسلام لان ترک الصلٰوۃ والصیام معصیۃ والمعصیۃ تبقی بعد الردۃ وماادی من الصیامات والصلوات فی اسلامہ ثم ارتد تبطل طاعاتہ لکن لایجب علیہ قضاءھا بعد الاسلام
وکذافی التنویر مع الدر:(6/383،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الحامدیة:(1/197،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی مجمع الضمانات:(686،حقانیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(342،البشری)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
6،5،1443/2021،12،11
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:8