الجواب حامداومصلیا
استخارہ کا مسنون ومستحب طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعدسورت الکافرون اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ الاخلاص پڑھےپھرسلام کے بعداستخارے کی دعاپڑھے،دعا کے بعد پاک بستر پر قبلہ رخ ہو کر سوجائے،بیدارہونے کے بعد دل کا جس طرف رجحان ہو اختیارکرےاوراگر ایک مرتبہ یہ عمل کرنے سے سمجھ نہ آئے تو سات دن مسلسل یہ عمل کرے۔عمل استخارہ کے بعد سونابہتر ہے،ضروری نہیں ہے۔
لمافی البحر الرائق:(2/91،رشیدیہ)
من ھم بأمر وکان لایدری عاقبتہ ولایعرف أن الخیر فی ترکہ أو الإقدام علیہ فقد أمرہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یرکع رکعتین یقرأ فی الأولی فاتحة الکتاب(وقل یا أیھا الکافرون)وفی الثانیة الفاتحة و(قل ھو اللّٰہ أحد) فإذا فرغ قال اللھم الخ
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/245،علوم اسلامیہ)
قال الحنفیۃ والمالکیۃ والشافعیۃ: یستحب أن یقرأ فی لرکعۃ الأولی بعد الفاتحۃ(قل یا أیھا الکافرون) وفی الثانیۃ(قل ھو اللہ أحد)
وکذافی جامع الترمذی:(1/220،رحمانیة)
وکذافی الدر المختار:(2/570،رشیدیہ)
وکذافی بذل المجھود:(7/245،قدیمی)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(163،البشریٰ)
وکذافی تحفة الاحوذی:(2/606،قدیمی )
وکذافی سنن ابن ماجہ:(208،رحمانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:191