سوال

اگر کسی شخص نے بیوی کا مہر اس طرح کیاکہ اس گھر کے دو کمرے مہر کے طور پر آپ کے ہیں ،گھر میں تین کمرے ہیں ،یہ طے نہیں کیا کہ کون سے دو کمرے مہر ہیں ؟اس طرح مہر طے کرنا درست ہےیا نہیں؟ کیونکہ کمرے متعین نہیں ہیں ،اگر درست ہے تو کیسے طے کیا جائے گاکہ کون سے کمرے ہیں؟ اگر درست نہیں تواب مہر کیسے طے کیا جائے،نکاح کو کئی سال گزر چکے ہیں؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

اس طرح مہر طے کرنادرست ہے اوردرمیانے کمرے یاان کی قیمت مہر میں دی جائے۔

لمافی المحیط البرھانی:(3/288،ادارة القراٰن)
الأصل أنّ جھالۃ المسمی إذا کانت جھالۃ جنس تمنع صحّۃ التسمیۃ ویجب مھر المثل وإن کانت جھالۃ صفۃ لایمنع صحۃ التسمیۃ وللمرأۃ الوسط من ذلک
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/170،فاروقیہ)
الأصل:أنّ جھالۃ المسمی إذاکانت جھالۃ جنس تمنع صحۃ التسمیۃ ویجب مھر المثل وان کانت جھالۃ صفۃ لایمنع صحۃ التسمیۃ وللمرأۃالوسط من ذلک
وکذافی البحرالرائق:(3/288،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/571،رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(2/35،امدادیہ)
وکذافی الھدایة:(2/309،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(290،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
11-7-1443/2022-2-13
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:161

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔