الجواب حامداومصلیا
صورت مسئولہ میں اس بچے کا باپ سے نسب ثابت نہیں ہوگا اور باپ کی طرف سے وراثت کا حقدار بھی نہیں ہوگا،البتہ ماں کی میراث سے اس کو حصہ ملے گا۔باپ اپنی زندگی میں اس کو کچھ دے سکتاہے یا اس کے لئے وصیت کر سکتا ہے۔
لما فی الھندیة:(1/540،رشیدیہ)
ولوزنی بامراۃ فحملت ثم تزوجھافولدت ان جاءت بہ لستۃ اشھر فصاعدا ثبت نسبہ وان جاءت بہ لاقل من ستۃ اشھر لم یثبت نسبہ الا ان یدعیہ ولم یقل انہ من الزنا اما ان قال انہ منی من الزنا فلا یثبت نسبہ ولا یرث منہ
وکذافی سنن ابی داود:(1/329،رحمانیہ)
عن عمرو ابط شعیب عن ابیہ عن جدہ قال قام رجل فقال یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان فلانا ابنی عاھرت بامہ فی الجاھلیۃ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا دعوۃ فہ الاسلام ذھب امرالجاھلیۃ الولدللفراش وللعاھر الحجر
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(5/265،فاروقیہ) وکذافی المحیط البرھانی:(4/172،ادارۃ القرآن)
وکذافی الفقہ الاسلانی ادلتہ:(10/7248،رشیدیہ) وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/360،حرمین شریفین)
وکذافی الخانیة:(1/371،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
2021-11-20
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:113