سوال

ہمارے علاقہ میں ایک مرد کے کسی عورت سے ناجائز تعلقات تھے،اس کے نتیجہ میں عورت جو کنواری تھی حاملہ ہوگئی۔تب ان دونوں نے جھوٹ بولا کہ ہم نے خفیہ طور پہ نکاح کرلیا تھا ۔بچہ پیدا ہونے کے کچھ عرصہ بعد پنچایت کے ذریعہ دونوں گھرون میں صلح ہوگئی اور ناراضگی ختم ہو گئی۔لڑکا باقاعدہ بارات لے کر آیا نکاح ہوااور عورت کی رخصتی ہو گئی۔اب یہ دونوں میاں بیوی کئی ب کے والدین ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ پہلا بچہ جو ولدالزنا ہےاس کودوسرے بچوں کی طرح رکھیں۔اس راز سے نہ وہ بچے کو مطلع کرنا چاہتے ہیں نہ اور لوگوں کو۔اس بچے کوو راثت سے حصہ بھی دینا چاہتے ہیں اور باپ اس کو اپنی ہی طرف منسوب کرنا چاہتا ہے ۔بچے کا باپ کہتا ہے کہ یہ میریے ہی نطفے سے ہے اگرچہ ولد الزنا ہے۔اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟قرآن وسنت سے واضح فرمایئں۔

جواب

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں اس بچے کا باپ سے نسب ثابت نہیں ہوگا اور باپ کی طرف سے وراثت کا حقدار بھی نہیں ہوگا،البتہ ماں کی میراث سے اس کو حصہ ملے گا۔باپ اپنی زندگی میں اس کو کچھ دے سکتاہے یا اس کے لئے وصیت کر سکتا ہے۔

لما فی الھندیة:(1/540،رشیدیہ)
ولوزنی بامراۃ فحملت ثم تزوجھافولدت ان جاءت بہ لستۃ اشھر فصاعدا ثبت نسبہ وان جاءت بہ لاقل من ستۃ اشھر لم یثبت نسبہ الا ان یدعیہ ولم یقل انہ من الزنا اما ان قال انہ منی من الزنا فلا یثبت نسبہ ولا یرث منہ
وکذافی سنن ابی داود:(1/329،رحمانیہ)
عن عمرو ابط شعیب عن ابیہ عن جدہ قال قام رجل فقال یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان فلانا ابنی عاھرت بامہ فی الجاھلیۃ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا دعوۃ فہ الاسلام ذھب امرالجاھلیۃ الولدللفراش وللعاھر الحجر
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(5/265،فاروقیہ)                       وکذافی المحیط البرھانی:(4/172،ادارۃ القرآن)
وکذافی الفقہ الاسلانی ادلتہ:(10/7248،رشیدیہ)        وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/360،حرمین شریفین)
وکذافی الخانیة:(1/371،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
2021-11-20
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:113

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔