سوال

احادیث مبارکہ میں صریح طور پر آیا ہے”کل مسکر حرام“جبکہ سگریٹ نوشی میں عام مسلمان مبتلا ہیں توکیا یہ حرام کے مرتکب ہیں کیونکہ اس میں کسی درجہ میں نشہ موجود ہے۔اسی طرح نسواراور پان کہ ان میں تواکثرعلماء کو بھی مبتلابہ پایا ہے جبکہ یہ بات عام مشاہد ہے کہ پہلی مرتبہ جب کوئ شخص نسوار اور پان استعمال کرتا ہے تو اس کا سر چکرا جاتا ہےاور بعض مرتبہ تو قے بھی آجاتی ہے۔کیا یہ لوگ بھی گنہگار ہیں؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

سگریٹ،پان اور نسوار میں نشہ کی وہ مقدارتو نہیں پائ جاتی جس پر حرمت کا حکم لگایا جائے اس لیے عام حالات میں ان کا استعمال حرام نہیں،لیکن بلاضرورت ان چیزوں کااس درجہ استعمال کہ جس سے انسانی صحت کو نقصان پہنچنے کااندیشہ ہو،وہ بہرحال کراھت سے خالی نہیں۔

وفی ردالمحتار:(10/49،رشیدیة)
والتتن الخ)اقول قداضطربت آراءالعلماءفیہ،فبعضھم قال:بکراھتہ(وبعداسطر)قلت:والف فی حلہ ایضاسیدناالعارف عبدالغنی النابلسی رسالۃ سماھا:((الصلح بین الاخوان فی اباحۃ شرب الدخان))وتعرض لہ فی کثیر من تالیفہ الحسان،واقام الطامۃالکبری علی القائل بالحرمۃ او بالکراھۃ،فانھما حکمان شرعیان لابد لھما من دلیل ولا دلیل علی ذلک،فانہ لم یثبت اسکارہ ولاتفتیرہ ولا اضرارہ بل ثبت لہ منافع، فھو داخل تحت قاعدۃ الاصل فی الاشیاہ الاباحۃ،وان فرض اضرارہ للبعض لا یلزم منہ تحریمہ علی کل احد،فان العسل یضر باصحاب الصفراءالغالبۃ،وربماامرضھم مع انہ شفاءبالنص القطعی،ولیس الاحتیاط فی الافتراء علی اللہ تعالی باثبات الحرمۃ اوالکراہۃاللذین لابد لھما من دلیل،بل فی القول بالاباحۃالتی ھی الاصل۔
وفہ الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/277،الطارق)
التدخین فی بلاد المسلمین فی مطلع الالف الھجرئیۃ الثانیۃ……وبعد فالذی ینبغی ان یعتمد للافتااناطۃالامر بالضرر و عدمہ،فمتی ثبت ضررہ حرم تناولہ،وان اضر ببعض دون بعض حرم علی المتضررین لا علی غیرھم وان غلب علی الظن التضرربہ حمل علی الکراھۃ
وفی عون المعبود:(10/73،قدیمی) وفی الاشباہ والنظائر:(69،قدیمی)
وفی شرح الحموی:(1/209،ادارۃالقرآن) وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5506،رشیدیة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(18/432،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
24-03-1443/2021-10-30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:84

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔