الجواب حامدا ومصلیا
لیبارٹری کےمالک کاڈاکٹرکوکمیشن دینااورڈاکٹرکالیبارٹری کےمالک سےکمیشن لیناچندشرائط کےساتھ جائزہے۔
1
۔کمیشن فیصدکےاعتبارسےیامتعین رقم کی صورت میں طےہو۔
2
۔اس کمیشن کےادا کرنےکی وجہ سےٹیسٹوں کےریٹ بڑھاکرمریض سےزائدرقم وصول نہ کی جائےبلکہ یہ کمیشن مالک اپنےحاصل شدہ نفع سےادا کرے۔
3
۔لیبارٹری والےمریض سےعلاج اورٹیسٹ کےسلسلےمیں کسی قسم کادھوکہ نہ کرتےہو۔
4
۔ڈاکٹرمریض کوصرف اسی لیبارٹری سےٹیسٹ کروانےپرمجبورنہ کرے۔
5
۔ڈاکٹرمحض کمیشن وصول کرنےکیلئےمریض کوبلاوجہ اورغیرضروری ٹیسٹ لکھ کرنہ دے۔
6
۔ڈاکٹراپنےفہم اورتجربہ کی روشنی میں مریض کواس لیبارٹری کی طرف بھیجنازیادہ مفیداورتسلی بخش سمجھتاہو
۔
ان شرائط کالحاظ رکھتےہوئےڈاکٹرکیلئےکمیشن لیناجائزہےلیکن اگران شرائط کالحاظ نہیں رکھاجاتاتوپھرلیبارٹری کےمالک کاڈاکٹرکوکمیشن دینااورڈاکٹرکیلئےکمیشن لیناجائزنہیں۔
لمافی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(5/40،رشیدیة)
لسمساروالمنادی والحمادی والصکاک ومالایقدرفیہ الوقت ولامقدارالعمل لماکان للناس بہ حاجةجازویطیب الاجرالماخوزلوقدراجرالمثل
وکذافی ردالمحتار:(5/39،داراحیاالتراث،بیروت)
قال فی التاتارخانیةوفی الدلال والسمساریجب اجرالمثل وماتواضعوعلیہ ان فی کل عشرةدنانیرکذافذاک حرام علیھم وفی الحاوی سئل محمدبن سلمۃعن اجرۃالسمسارفقال ارجوانہ لاباس بہ وان کان فی الاصل فاسدالکثرۃالتعامل وکثیرمن ھذاغیرجائزفجوزوہ لحاجۃالناس الیہ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/368،الطارق)
وفی الدلال والسمساریجب اجرالمثل،وماتواضعوعلیہ ان فی کل عشرۃدنانیردینار،فذالک حرام علیھم۔وسئل محمدبن سلمۃ عن اجرۃالسمسارفقال :ارجوانہ لاباس بہ،وان کان فی الاصل فاسدا لکثرۃالتعامل،وکثیرمن ھذا غیر جائز، فجوزوہ لحاجۃالناس الیہ
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/39،فاروقیة)
وکذافی الولوالجیة:(3/344،الحرمین الشریفین)
واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10-07-1443/2022-02-12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:176