الجواب حامداً ومصلیاً
دلائل شرعیہ قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ اور فقہ کی عبارات اس پر دلالت کرتی کہ عورت کا حکمران بننا درست نہیں۔قرآن مجید میں ہے”الرجال قوامون علی النساء…الخ(النساء،34)” ترجمہ:مرد عورتوں پر نگران ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت فضیلت دی ہے ۔آیت کے اطلاق سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عورت مرد پر نگران نہیں ہے۔جب ایک عورت ایک مرد پر نگران نہیں بن سکتی تو وہ عام انسانوں کے لئے کیسےنگران بن سکتی ہے؟
کافی احادیث مبارکہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس قوم پر عورت حکمران بن جائے وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی۔ترمذی شریف کی روایت میں ہے “اذاکان امراءکم شرارکم واغنیاءکم بخلاءکم وامورکم الی نساء فبطن الارض خیر من ظھرھا”(ترمذی:2/500،رحمانیہ)۔یعنی جب تمہارے امرء تمہارے بدترین لوگ ہوں اور جب تمہارے دولتمند بخیل ہوں اور جب تمہارے معاملات تمہاری عورتوں کے ہاتھ میں ہوں تو زمین کا پیٹ تمہارے لئے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے،یعنی اس وقت تمہارے لئے زندگی موت سے بہتر ہے ۔اس طرح بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ فارس والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنے معاملات کا سربراہ عورت کوبنایا ہے۔اس طرح بعض احادیث میں عورتوں کے بارے میں ہے “ما رایت من ناقصات العقل والدین اذھب للب الرجل الحازم من احداکن” جن کا مفہوم یہ ہے کہ عورتیں عقل اور دین میں ناقص ہوتی ہیں۔ جب یہ ناقصات العقل والدین ہیں تو دینی اور دنیاوی معاملات کو احسن طریقے سے کیسے سرانجام دے سکتی ہیں؟ لہذا عورت کوحکمران بنانا درست نہیں ہے۔
سربراہ بننے کے بعد جن فرائض منصبی کی احسن طریقےسےادائیگی کے لئےجن امور کی ضرورت ہوتی ہے،اللہ تعالیٰ نے وہ مردوں میں پیدا کئے ہیں،البتہ گھریلو اور خاندانی امور کے کفالت کی ذمہ داری عورت کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے،اس لئے عورت کو اس میدان کی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے جن امور کی ضرورت تھی وہ اسے مکمل طور پر دئے گئے ہیں ،جبکہ مرد میں وہ صلاحیتیں مفقود ہیں۔عورت کے لئے پردہ کی رعایت،اجانب سے بے جا اختلاط سے ممانعت اور دامن عصمت کا تحفط ایسے امور ہیں جو میدان قیادت میں جانے سے منع کرتے ہیں۔
لہذا ان وجوہ اور دیگر اسباب کی بنیاد پرتمام امت اور ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت عمومی طور پر اسلامی ملک اور سلطنت کی امارت کی اہل نہیں۔
لما فی صحیح البخاری:(2/118،رحمانیہ)
عن ابی بکرۃ قال لقد نفعنی اللہ تعالیٰ بکلمۃ سمعتھا من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام الجمل فاقاتل معھم قال ما بلغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اھل الفارس قد ملکوا علیھم بنت کسریٰ قال لن یفلح القوم ولوا امرھم امرءۃ
وکذافی الترمذی:(2/499،رحمانیہ) وکذا فی سنن النسائی:(2/304،رحمانیہ)
وکذا فی تلخیص الحبیر:(4/427،دار الکتب العلمیہ) وکذا فی سنن الکبریٰ للبیھقی:(19/201،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی المقاصد الحسنہ:(500،النوریہ الرضویہ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(ۛ8/937،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(8/28،رشیدیہ) وکذا فی بدائع والصنائع:(1/589،رشیدیہ)
وکذا فی ھامش علی مجمع الانھر:(1/246،المنار) وکذا فی البحر الرائق:(2/246،)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/5937،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ کوٹ ادو غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/4/1443/2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:129