سوال

ایک آدمی قیام پر قادر ہے اور رکوع وسجود پر قادر نہیں ہے تو وہ کھڑے ہوکر نماز ادا کرے یا بیٹھ کر؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسے شخص کو ضرور قیام کرناچاہیئے اور رکوع کا اشارہ کھڑے ہوکر بھی کر سکتا ہے ،بیٹھ کر بھی ،جبکہ سجدہ کا اشارہ بیٹھ کرکرے۔ اگر کسی مشقت کے بغیر وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوسکتا ہے تو دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھے اور اگر بیٹھ کر اٹھنے میں زیادہ مشقت ہو تو باقی نماز بیٹھ کر اشارہ ہی سے پوری کرلے۔
البتہ اگر کسی نے حنفیہ کے مشہور مسلک پر عمل کرتے ہوئے پوری نماز بیٹھ کر پڑھ لی تو اسکی نماز بھی ہوجائے گی۔

لما فی فتح القدیر:(2/7،رشیدیہ)
وان قدر) ای المریض علی القیام دون الرکوع والسجود بان کان مرضہ یقضی ذلک (لم یلزمہ)المنفی اللزوم فافادانہ لو اوما قائما جاز،الا ان الایماء قاعدا افضل لانہ اقرب الی السجود وقال خوہرزادہ یؤمی للرکوع قائما وللسجود قاعدا ،ثم ھذامبنی علی صحۃ المقدمۃ القائلۃ الرکنیۃ القیام لیس الا للتوسل الی السجودوقد اثبتھابقولہ لمافیھامن زیادۃ التعظیم:ای السجدۃ علی وجہ الانحطاط من القیام فیھا نھایۃ من التعظیم وھو الطلوب،فکان طلب القیام لتحقیقہ،فاذاسقط سقط ماوجب لہ وقد یمنع ان الشرعیۃ لھذا علی وجہ الحصر بل لہ ولما فیہ نفسہ من التعظیم کما یشاھد فی الشاھد من اعتبارہ کذلک حتی یحبہ اھل التجبر لذلک فاذا فات احد التعظیمی صار مطلوبا بما فیہ نفسہ۔ویدل علی نفی ھذہ الدعوی ان من قدر علی القعود والرکوع والسجود لاالقیام وجب القعود مع انہ لیس فی السجود عقبیہ تلک النھایۃ لعدم مسبوقیۃ بالقیام
وفی اعلا السنن:(7/202،ادارۃ القرآن)
ان الرکنیۃ القیام قد ثبتت بالنص وھو قولہ تعالٰی:(وقومواللہ قانتین)وقولہ صلی اللہ علیہ وسلم لعمران: (صل قائما فان لم تستطع فقاعدا) وبالاجماع ،فلایسقط وجوبہ عن القادر علیہ بالقیاس الذی ذکرتموہ ، فان القیاس اضعف الدلائل لایجوز معاوضۃ القطی لہ
وکذافی حاشیہ الطحطاویہ علی مراقی الفلاح :(434،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی :(3/47،دار احیاءتراث)
وکذافی المبسوط للسرخسی :(1/213،دار المعرفة)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/136،رشیدیہ)
” لوعجز عن الرکوع والسجود و قرر علی القیام فالمستحب ان یصلی قاعدا بایماء وان صلی قائما بایماء جاز عندنا. “

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1443/2021/12/7
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:187

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔