سوال

کسی شخص کو سجدہ سہو کے وجوب میں شک ہے اوروہ شک کی وجہ سے سجدہ سہو کرلیتا ہے،تو اس کی نماز کا کیاحکم ہے؟یعنی جس میں بغیر ضرورت کے محض شک کی وجہ سے سجدہ سہو کیا جو کہ واجب نہ تھا۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

محض شک کی وجہ سے سجدہ سہو نہیں کرنا چاہیے،لیکن اگر کبھی غلطی سے کرلیا تو نماز ہوجائے گی۔ائندہ خیال رکھنا چاہیئے۔

لما فی المحیط البرھانی:(3/113،داراحیاء تراث)
واذا ظن الامام ان علیہ سھوا فسجد للسھو وتابعہ المسبوق فی ذلک ثم علم أنہ لم یکن علی الامام سھو،ففیہ روایتان :فی إحدی الروایتین:تفسدصلاۃ المسبوق،وبہ اخذ عامۃ المشایخ،وفی اإحدی الروایتین لا تفسد،وبھذاالروایۃ کان یفتی الشیخ الاسلام ابو حفص فإن لم یعلم أنہ لم یکن علی الامام سھو لم تفسد صلا ۃ المسبوق بلا خلاف
وفی:البحر الرائق (2/176،رشیدیہ)
المسبوق إذا تابع المسبوق فی سجود السھوثم تبین أنہ لم یکن علی الامام سھو حیث تفسد صلاۃ المسبوق لکونہ اقتدی فی موضع الانفراد لا لزیادۃ السجدتین
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/163،دار احیاء تراث)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/427،فاروقیہ)
وکذافی الدر المختار:(1/599،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع للکاسانی:(1/421،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی النوازل:(103،الحقانیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(89،زمزم)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443/2021/12/19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:50

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔