سوال

حکومت کسی شخص کو ایک سال تک کسی شہر کے ٹول پلازہ کا ٹھیکہ دیتی ہے مثلا ایک سال کا دو کڑوڑ ٹھیکہ طے ہوا وہ شخص حکومت کو پہلے دو کڑوڑ ادا کردیتا ہے اور بعد میں ایک سال تک ٹول پلازہ کا ٹیکس وصول کرتا رہتا ہے،کیا حکومت سے یہ معاملہ کرنا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/145،معارف القران)
” ان یکون العقد اجارۃ للشارع من قبل الحکومۃ التی تملکہ،فالجھۃ صاحبۃ الامتیاز تملک منفعۃ للشارع الی مدۃ معلومۃ ثم انھا تتقاضیٰ الرسوم من العربات ا لتی تنتفع بالمرور علیہ وتقاضی الرسوم فی ھذہ الحالۃیشبہ الاجارۃ من الباطن ،وھی جائزۃ عند المالکیۃ والشافعیۃ سواء کانت الاجرۃ فی الباطن زائدۃ علی الاجرۃ التی یدفعھا المستاجر الاول الی المالک،وھو المختار عند الحنابلۃ ،اما الحنفیۃ فذھبو الی ان الزیادۃ تطیب فی حالتین
الاولیٰ: ان ان تکون الاجرۃ التی یتقاضاھا المستاجر الاول بغیر جنس الاجرۃ التی یدفعھا الی المالک۔
والثانیۃ: ان یحدث فی العین الاجرۃ زیادۃ۔
وان اصحاب الامتیاز یحدثون فی الشارع زیادات کثیرۃ من اجل تشغیلہ فلو فعلو ذلک تطیب الزیادۃ لھم عند الحنفیۃ ایضا

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1444/2022/2/9
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:133

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔