الجواب حامداومصلیا
کاغذوغیرہ کسی چیز پر ہاتھ سے بنی ہوئی یا پرنٹ تصویر تو بالاتفاق حرام ہے البتہ کیمرے کی ان تصاویر کے بارے میں جن کا پرنٹ نہ نکالا گیا ہو ان میں علماء کا اختلاف ہے ۔بعض علماء کے نزدیک یہ بھی تصویر ہے اور حرام ہے ۔جبکہ بعض علماء کے نزدیک یہ تصویر نہیں بلکہ عکس ہے ،جو شعاعوں اور ذرات کی صورت میں محفوظ ہوتا ہے ۔ان کے نزدیک یہ حرام نہیں ،بشرطیکہ کسی جائز منظر کی ہو ۔ہمارا رجحان بھی دوسری رائے کی طرف ہے کہ کیمرے سے عکس بندی کی گنجائش ہے ،بشرطیکہ کسی حرام چیز کا عکس نہ ہو اور اس کا پرنٹ نہ نکلوایا جائے ۔
لما فی تکملہ فتح الملھم:(4/164،درالعلوم کراچی)
اماالصورۃ التی لیس لھا ثبات و استقرار ولیست منقوشۃ علی شیئ بصفۃ دائمۃ فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ ویبدو ان صورۃالتلفزیون والفیدیو لاتستقر علی شیئ فی مرحلۃ من المراحل الا اذا کان فی صورۃ “فیلم” فان کانت صورالانسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الانسان امام الکیمرا فان الصورۃلا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ وانما ھی اجزاءکھربائیۃ تنتقل من الکیمرا الی الشاشۃ وتظھر علیھا بترتیبھا الاصلی ثم تفنی و تزول واما اذ ااحتفظ بالصورۃ فی شریط الفید یو فان الصور لا تنقش علی الشر یط وانما تحفظ فیھا الاجزاء الکھربائیۃ التی لیس لھا صورۃ فاذاظھرت ھذہ الاجزاء علی الشاشۃ ظھرت مرۃ اخری بذلک الترتیب الطبیعی و لکن لیس لھا ثبات و لااستقرار علی الشاشۃ و انما ھی تظھر و تفنی فلا یبدو ان ھناک مرحلۃ من المراحل تنتقش فیھا الصورۃ علی شیئ بصفۃ مستقرۃ او دائمۃ وعلی ھذا فتنزیل ھذہ الصورۃ منزلۃ الصورۃ المستقرۃ مشکل
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/2/2022/10/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:174