سوال

تعزیت کے لیے مسجد میں بیٹھنا جائز ہے ،جبکہ ورثاء کے پاس آنے والوں کو بٹھانے کے لیے جگہ نہ ہو ؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

اگر مسجد کے علاوہ کوئی اور جگہ میسر نہ ہو تو مسجد میں بیٹھا جاسکتا ہے ،لیکن آداب کاضرور خیال کیا جائے ورنہ مسجد میں بیٹھنا مکروہ ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1572،رشیدیة)
قال الحنفیۃ: لاباس بالجلوس للتعزیۃ فی غیر المسجد ثلاثۃ ایام واولہا افضلہا ،وقال فی الفتاوی الظھیریۃ :لاباس بہا لاہل المیت فی البیت او المسجد والناس یاتونھم ویعزونھم
وفی البحرالرائق :(2/237،رشیدیة)
قال البقالی ولاباس بالجلوس للعزاء ثلاثۃ ایام فی بیت او مسجد وقد جلس رسول اللہ لما قتل جعفروزید بن حارثۃ والناس یاتون ویعزونہ والتعزیۃ فی الیوم الاول افضل والجلوس فی المسجد ثلاثۃ ایام للتعزیۃ مکروہ وفی غیر ہ جاءت الرخصۃ ثلاثۃ ایام للرجال وترکہ احسن
وکذافی الشامیة:(2/241،ایم،سعید)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(617،قدیمی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/346،الطارق)
وکذافی الہندیة:(1/167،رشیدیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(12/288،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1443/2022/4/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:146

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔