سوال

مشہور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر کل قیامت والے دن اعلان ہو کہ صرف ایک ہی شخص جنت میں جائے گا تو مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں گا اور اسی طرح اگراعلان ہو کہ صرف ایک شخص جہنم میں جائے گا تو مجھے ڈرہے کہ کہیں وہ شخص میں ہی نہ ہوں۔ کہنا یہ ہے کہ یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے یا نہیں؟اگر ثابت نہ ہو بلکہ اسی سے ملتا جلتا کوئی اور قول ثابت ہو تو رہنمائی فر مائیں۔

جواب

الجواب حامداومصلیا

جی ہاں !تھوڑے سے فرق کے ساتھ ایسے ہی الفاظ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثا بت ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر یہ اعلان ہو کہ سب لوگ جنت میں جائے گے سوائے ایک کے تو مجھے ڈرہے کہ وہ ایک میں ہوں گا اور اگر یہ اعلان ہو کہ ایک شخص کے علاوہ سب لو گ جہنم میں جائیں گے تو مجھے امید ہے کہ وہ ایک میں ہوں گا ۔

لما فی کنزالعمال :(12/277،رحمانیة)
عن عمر قال لو نادی منادی من السماء یاایھاالناس انکم داخلون الجنۃ کلکم اجمعون الارجلاواحدالخفت ان اکون اناہو ولو نادی مناد ایھاالناس انکم داخلون النارالارجلاواحدالرجوت ان اکون اناہو
وفی حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء:(1/53،دارالکتاب العلمیة)
حدثنامحمد بن معمر ثناابو شعیب الحرانی ثنایحی بن عبداللہ الباہلی ثناالاوزاعی ثنا یحی بن کثیر عن عمر بن الخطاب قال لو نادی منادی من السماء یا ایھا الناس انکم داخلون الجنۃ کلکم اجمون الارجلاواحدالخفت ان اکون اناہو ولو نادی مناد ایھاالناس انکم داخلون النار الارجلاواحدا لرجوت ان اکون اناہو
وکذا فی سبل الھدی والرشاد فی سیرة الخیر العباد ﷺ:(11/271،نعمانیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/18/12/2021
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:29

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔