سوال

ہمارے ہاں لندن مرکز میں شب جمعہ پر بزرگوں نے ایک درود شریف اور اس کی فضیلت یہ بتلائی کہ جو بندہ “اللھم صل علی محمد فی اول کلامنا اللھم صل علی محمد فی اوسط کلامنا اللھم صل علی محمد فی آخر کلامنا”کو تین بار دن اور تین بار رات کو پڑھ لے تو گویا وہ دن رات درو د شریف پڑھتا رہا ۔پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ درودشریف اور اس کی فضیلت احادیث مبارکہ سے ثا بت ہے یا بزرگوں کا مجرب اور انہی سے منقول ہے؟

جواب

الجواب حامداو مصلیا

مذکورہ درود شریف اور اس کی فضیلت احادیث مبارکہ سےتو ثابت نہیں بلکہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ نے ”ذریعۃ الوصول الی جناب الرسول ﷺ “علامہ مخدوم محمد ہاشم سندھی رحمہ اللہ کی کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ہے ، اس کے صفحہ 237پرہے
”شیخ الاسلام ابو العباس بو نی روح اللہ روحہ نے فرمایا کہ جو شخص کہ دن اور رات میں تین تین مر تبہ یہ درود بھیجے گویا وہ دن رات کے تمام اوقات میں درود بھیجتا رہا “ (مکتبہ لدھیانوی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2022/6/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:130

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔