الجواب حامداو مصلیا
1-
صورت مسئولہ میں عدت کے بعد بھی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔2-باہمی رضا مندی سے سسرال بھی رہ سکتی ہے اور والدین کے ہا ں بھی۔3-چھو ٹے دونوں بچوں کا خرچ باپ کے ذمہ ہو گا۔
لما فی البحر الرائق:(4/94،رشیدیة)
“قولہ:(وینکح مبانۃفی العدۃ وبعدھا) ای المبانۃ بمادون الثلاث لان المحلیۃباقیۃ لان زوالھا معلق بالطلقۃالثالثۃ فینعدم قبلھا ومنع الغیر فی العدۃ لاشباہ النسب ولا اشباہ فی الطلاق لہ “
وفیہ ایضا:(4/340)
قولہ:(ولطفلہ الفقیر)ای تجب النفقۃ والسکنی والکسوۃ لولدہ الصغیر لقولہ تعالی(وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف) فھی عبارۃ فی ایجاب نفقۃالمنکوحات اشارۃ الی ان نفقۃ الاولاد علی الاب
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/6955،رشیدیة)
اما الطلاق الرجعی :فھو الذی یملک الزوج بعدہ اعادۃالمطلقۃ الی الزوجیۃ من غیر حاجۃ الی عقد جدید مادامت فی العدۃ،ولو لم ترض،و ذلک بعد الطلاق الاول والثانی غیر البائن اذا تمت المراجعۃ قبل انقضاء العدۃ انقلب الطلاق الرجعی بائنا ، فلا یملک الزوج ارجاع زوجتہ المطلقۃ الا بعقد جدید
وکذافی البدائع الصنائع:(3/444،رشیدیة)
وکذاالشامیة:(3/612،سعید)
وکذا فی الشامیة:(3/400،سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبة الجدید:(2/203،الطارق)
وکذا فی فتح الباری فی شرح البخاری:(9/604)
وکذا فی فتح الباری فی شرح البخاری:(9/603)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ :مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن سا ہیوال
14/4/1443/2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:118