سوال

ایک شخص دوسرے سے رہن لے کر قرض دیتا ہے ،مستقرض شئی مرھونہ کے استعمال کی اجازت دےدیتا ہے ،تو اس صورت میں رہن رکھی ہوئی چیز کو استعمال کرنا کیساہے؟اور شئی مرھونہ کی شرعی حیثیت رہن کی رہے گی یا تبدیل ہو جائے گی ؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

الجواب حامداومصلیا

اگر مرتہن کی جانب سے رہن کے استعمال کی شرط یا مطالبہ ہو یا رہن کا استعمال معروف ہو تو ناجائز اور حرام ہے ،لیکن اگر مرتہن کو کسی ضرورت کی وجہ سے مرھونہ شئ استعمال کرناپڑے توراہن کی دلی اجازت سے ایک آدھ بار استعمال کی گنجائش ہے ۔وہ چیز رہن ہی رہے گی ۔اگر ہلاک ہو گئی تو جتنی ہلاک ہوگی اس قدر قرض سے کمی ہو جائے گی اور استعمال کے دوران امانت ہوگی ،اگر بغیر تعدی کے ہلاک ہوگئی تو مرتہن کے ذمہ کچھ بھی نہ ہو گا۔

ولمافی الموسوعةالفقہیة:(23/184،علوم اسلامیة)
“وفی قول عندہم :لایجوز الانتفاع للمرتہن ولو باذن الراہن لانہ ربا وفی قول ان شرطہ فی العقد کان ربا والاجاز انتفاعہ باذن الراہن “
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(6/429،رشیدیة)
واذااذن الراھن للمرتہن فی الانتفاع بالمرھون جاز مطلقا عند بعض الحنفیۃ و منھم من منعہ مطلقا لانہ ربا او فیہ شبہۃ الربا و الاذن او الرضا لایحل الربا ولا شبھتہ ومنھم من فصل فقال ان شرط الانتفاع علی الراھن فی العقد فھو حرام لانہ ربا وان لم یشرط فی العقد فجائز لانہ تبرع من الراھن للمرتہن
وفی الشامیة:(5/310،ایم سعید )
قولہ یضمن بالتعدی )فلو رھن ثوبا یساوی عشرین درھما لعشرۃفلبسہ المرتھن باذن الراھن فانقص ستۃثم لبس بلا اذن فانتقص اربعۃ ثم ھلک وقیمتہ عشرۃ یر جع المرتھن علی الراھن بدرھم واحد من دینہ ویسقط تسعۃ لان الثو ب یو م الرھن کان نصفہ مضمونا بالدین و نصفہ اما نۃ وما انتقص بلبسہ بالاذن وھو ستۃ لایضمن وماانتقص بلا اذن وھو اربعۃیضمن ویصیر قصاصا بقدرہ من الدین ۔۔۔۔۔۔الخ
وکذافی مجمع الانہر :(4/273،المکتبةالمنار )
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(5/42،الحرمین الشریفین )
وکذا فی التنویر مع الدر :(6/482،ایم سعید )
وکذافی الدرالمنتقی فی شرح الملتقی :(4/273،المنار)
وکذافی البحر الرائق :(8/439،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثو بہ الجدید :(4/453،الطارق)
وکذا فی الہدایہ مع فتح القدیر :(10/169،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
10/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:178

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔