الجواب حامداً ومصلیاً
باپ اولاد کو میراث سے محروم“عاق”نہیں کر سکتا،اگر کسی کو محروم کر دیا تب بھی وہ باپ کے مرنے کے بعد شرعاً اس کی میراث کا حق رکھتا ہے۔(2):چونکہ یہ مال انہیں دو بھائیوں کا ہے،ان کے والد کا نہیں ہے،اس لیے ان کی ماں اور بہن کا اس کاروبار میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
لما فی الدر المختار:(10/538،رشیدیة)
وموانعہ)علی ما ھھنا اربعۃ:(الرق۔۔۔۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ الاٰتیۃ)(والقتل)۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ الاٰتیۃ)(واختلاف الدین) وبعد اسطرٍ(و) الرابع(اختلاف الدارین)۔۔۔۔(حقیقۃ)۔۔۔۔(او حکماً).”
وفی الموسوعة الفقہیة:(3/22،علوم اسلامیة)
المانع: ما یلزم من وجودہ العدم
وموانع الارث المتّفق علیھا بین الائمۃ الاربعۃ ثلثۃ: الرق والقتل واختلاف الدین.واختلفو فی ثلثۃ اخری وھی: الردۃ واختلاف الدارین والدور الحکمی
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/4984،رشیدیة) وکذا فی تبیین الحقائق:(6/239،امدادیة)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(6/454،رشیدیة) وکذا فی البزازیة:(6/468،رشیدیة)
واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/04/1443/2021/11/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:133