سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ(1)کوئی عورت کسی مرد کو شہوت سے چھوئے اور اس مرد کوشہوت نہ ہو تو حرمت مصاہرت ثابت ہو گی یا نہیں؟(2)اور شہوت سے چھونے کی صورت میں کپڑے کے حائل ہونے یا نہ ہونے میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

(1)

مرد یا عورت میں سے کسی ایک کے دوسرے کو شہوت کے ساتھ چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔(2)کپڑے کے ساتھ عورت یا مرد میں سے کوئی ایک ،دوسرے کو چھوئےاور اس کے جسم کی حرارت چھونے والے کے ہاتھ تک نہ پہنچےتو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہو گی۔

لما فی التاتارخانیة:(4/52،فاروقیة)
لا یشترط شھوتھماجمیعاً بل یکفی اشتھاء احدھما اذا کان الآخر محل الشھوة واشتھاء احدھما عند المس ایھما کان الذکر او انثیٰ الماسّ او الممسوس۔۔۔۔۔(بعد اسطر)ثم انّما یوجب حرمۃ المصاھرۃ اذا لم یکن بینھما ثوب اما اذا کان بینھما ثوب فان کان ثخیناً صفیقاً لا یجد حرارۃ الممسوس وفی الخانیۃ:لینہ لا تثبت حرمۃ المصاہرہ وان انتشرت الآلۃ لذالک وان کان رقیقاً بحیث تصل حرارۃ الممسوس الی یدہ تثبت حرمۃ المصاہرۃ
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/361،رشیدیة)
وان مسّھا وعلیھا ثوب صفیق لا تصل حرارۃ الممسوسۃ ولینھا الی یدہٖ لا تثبت الحرمۃ وان کان الثوب رقیقاً تصل الیہ حرارۃ الممسوسہ ولینھا تثبت الحرمۃ۔۔۔۔۔۔
ومس المرءۃ الرجل فی الحرمۃ کمس الرجل المرءۃ
وکذا فی تبیین الحقائق:(2/107،امدادیة) وکذا فی بدائع الصنائع:(2/535،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(3/175،رشیدیة) وکذافی منحة الخالق علی البحر:(3/177،رشیدیة)
وکذا فی الھندیة:(1/275،رشیدیة) وکذافی الولوالجیة:(1/357،حرمین شریفین)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/52،حقانیة)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ تعالی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/03/1443/2021/09/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:79

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔