سوال

کہا جاتا ہے کہ علماء کرام کی زیارت ثواب ہے،علماءکی برکت تو تسلیم ہے،البتہ زیارت پر دلیل مطلوب ہے؟بعض لوگ کہتے ہیں یہ بات حدیث سے ثابت ہے،اگر حدیث موجود ہےتو اس پر بھی مطلع فرمائیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

احادیث کی رو سےکسی عام مسلمان کی زیارت موجب ثواب ہےتو عالم دین کی زیارت توبطریق اولی باعث اجر ہو گی۔

لما فی جامع الترمذی:(2/464 ،رشیدیہ)
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ:من عاد مریضاً او زار اخاً لہ فی اللہ ناداہ منادٍ ان طبت وطاب ممشاک وتبوّئت من الجنۃ منزلا

ترجمہ:”رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے کسی مریض کی تیمار داری کی یا ،اللہ کی رضا کیلئے اپنے کسی بھائی کی زیارت کی تو اس کے لیے ایک فرشتہ یہ اعلان کرتا ہے،تو اورتیرا چلنا مبارک ہواور تو نے اپنے لیے جنت میں ایک گھر بنا لیا ہے۔

وفی صحیح المسلم:(2/321 ،رحمانیہ)

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبیﷺ ان رجلاً زار اخاً لہ فی قریۃٍ اخریٰ فارصد اللہ تعالیٰ لہ علی مدرجتہٖ ملکاً فلما اتی علیہ قال این ترید؟ قال ارید اخا لی فی ھذہ القریۃ قال ھل لک علیہ من نعمۃ تربھا قال لا غیر انّی احببتہ فی اللہ قال فانّی رسول اللہ الیک بانّ اللہ قد احبّک کما احببتہ فیہ

ترجمہ:”نبی کریمﷺنے فرمایا کہ ایک شخص کسی دوسری بستی میں اپنے کسی بھائی کی زیارت کے لیے گیاتو اللہ تعالی نےاس کے راستے پر ایک فرشتہ مقرر فرما دیا۔ فرشتے نے اس سےپوچھا:کہاں کا ارادہ ہے؟تو وہ بولا:فلاں بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کے لیے جا رہا ہوں۔فرشتے نے کہا؛کیا آپ کا اس کے ساتھ کوئی احسان کا معاملہ(پہلے سے)ہے جس کو آگے بڑھانا چاہ رہے ہو؟اس نے جواب دیا:نہیں! بلکہ مجھے اس سے اللہ کے لیےمحبت ہے ، اس لیے ملنے جارہاہوں۔فرشتے نے کہاکہ مجھے اللہ نے تمہارے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ اللہ بھی تم سے ایسے ہی محبت کرتے ہیں جیسے تم اپنے بھائی سے محبت کرتے ہو۔

البتہ خاص طور پر علماء کی زیارت پر کوئی صحیح روایت نہیں ملی، بلکہ محض موضوع روایات اس بارے میں کتب میں پائی جاتی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں

فی کشف الخفاء:(2/251 ،مکتبہ الغزالی)
من زار العلماء فکانما زارنی ومن صافح العلماء فکانما صافحنی ومن جالس العلماء فکانما جالسنی ومن جالسنی فی الدنیا اجلس الیّ یوم القیٰمۃ.”قال فی(الذیل)فی اسنادہ حفص کذاب

وفیہ ایضاً:(2/243 ،مکتبہ الغزالی)

من جالس عالماً فکانما جالس نبیاً.”قال فی المقاصد لا اعرفہ فی المرفوع

وفی الموضوعات الکبری:(253،قدیمی)

نظرۃ الی وجہ العالم احب الی اللہ من عبادۃ ستین سنۃ صیاما وقیاما.”لا یصح قالہ السخاوی.

 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد نوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/08/1443/2022/03/19
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:28

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔