الجواب حامداًومصلیاً
عورت مکمل پردے کے ساتھ(جس میں چہرے کا پردہ بھی داخل ہے)بوقت ضرورت خریداری کے لیے جا سکتی ہے،اگر بازار،شرعی مسافت پر یا اس سے زیادہ دور ہو تو محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔
لما فی بدائع الصنائع:(2/300،رشیدیة)
ثم المحرم أو الزوج:إنما یشترط اذا کان بین المرأۃ وبین مکۃ ثلثۃ أیام فصاعداً فإن کان أقل من ذالک حجت بغیر محرم لأن المحرم یشترط للسفر وما دون ثلثۃ أیام لیس بسفر فلا یشترط فیہ المحرم کما لا یشترط للخروج من محلۃ الی محلۃ
وفی وفی فتح القدیر:(2/427،رشیدیة)
لأنہ یباح لہا الخروج الی ما دون مدۃ السفر بغیر محرم) یعنی اذا کان لحاجۃ
وکذا فی الدر المختار:(3/531،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/219،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(1/254،حرمین شریفین)
وکذا فی البحر الرائق:(8/351،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الأنہر شرح ملتقی الابحر علی ھامشہ:(1/122،المنار)
وکذا فی النھر الفائق:(1/183،قدیمی)
وکذا فی الدر المنتقی علی ھامش ملتقی الابحر:(1/121،المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(1/470،رشیدیة)
واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:19