سوال

ایک شخص نے فجر کی نماز ایک ہفتہ تک بیٹھ کر پڑھائی کسی عذر کی وجہ سے اور رکوع اور سجدے کا اشارہ کیا تو ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

امام اور جو مقتدی عذر کی بنا پر رکوع و سجدے پر قادر نہیں تھے ان کی نمازیں صحیح ہو گئیں مگر وہ مقتدی جو رکوع و سجدے پر قادر تھے انہیں وہ تمام نمازیں لوٹانا ہوں گی جو انہوں نے اس معذور امام کے پیچھے ادا کیں۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(1/85،رشیدیة)
ویصح اقتداء القائم بالقاعد الذی یرکع ویسجد لا اقتداء الراکع والساجد بالمؤمی ھکذا فی فتاوی قاضیخان۔۔۔۔۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ 86) والأصل فی ھذہ المسائل ان حال الامام ان کان مثل حال المقتدی أو فوقہ جازت صلوۃ الکل وإن کان دون حال المقتدی صحت صلوۃ الامام ولا تصح صلوۃ المقتدی
وفی المحیط البرہانی:(2/180،دار إحیاء التراث)
قال محمد فی (الجامع الصغیر):لا یؤم القاعد الذی یؤمی قوما یرکعون ویسجدون والأصل فی ھذا أن یقال:بأن صلوۃ المقتدی مبنیّ علی صلوۃ الامام[فکان کالتبع لہ والشئ یستتبع ما دونہ وما ھو مثلہ ولا یستتبع ما ھو فوقہ فإن کان حال الامام] مثل حال المقتدی أو فوقہ جاز صلوۃ الکل وإن کان حال الامام دون حال المقتدی صحت صلوۃ الامام فلا تصح صلوۃ المقتدی۔۔۔۔۔۔۔
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(2/391،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(2/254،فاروقیة)
وکذا فی الھدایة:(1/129،المیزان)
وکذا فی فتح القدیر:(1/381،رشیدیة)
وکذا فی العنایة علی ھامش فتح القدیر:(1/381،رشیدیة)
وکذا فی کنز الدقائق:(29،حقانیة)
وکذا فی البحر الرائق:(1/631،رشیدیة)
وکذا فی النھر الفائق:(1/252،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:21

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔