الجواب حامداًومصلیاً
عام طور پر اس طرح کا جملہ کسی کی باتوں سے تنگ آ کر اس کے جواب میں بول دیا جاتا ہے،کہنے والا، یہ جملہ اسلام کو چھوڑنے کی نیت سے نہیں کہ رہا ہوتا۔چنانچہ اگر صورت مسئولہ میں ایسا ہی ہے تو مذکورہ جملے سے کافر نہیں ہو گا،لیکن ایسا جملہ بولنے سے بچنا چاہیے،یہ بہت سخت جملہ ہے،بولنے والے کو استغفار کرنا چاہیے۔
لما فی البحر الرائق:(5/27،رشیدیة)
“و[یکفر]بقولہ عمداً لا جواباً لمن قال لہ ألست مسلماً حین ضرب عبدہ أو ولدہ ضرباً شدیداً إلا إن غلط أو قصد الجواب.”
وفی الفتاوی الہندیة:(2/277،رشیدیة)
رجل ضرب إمرأۃ فقالت المرأۃ ألست بمسلم فقال الرجل ھبی[أفرضی]أنی لست بمسلم قال الشیخ۔۔۔۔۔۔۔محمد بن فضل: لا یصیر کافراً بذالک
وکذا فی المحیط البرہانی:(7/423،ادارة القرآن)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(7/338،فاروقیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(2/413،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(4/69،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ:(5/520،الطارق)
واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1443/2022/02/02
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:118