سوال

جب اللہ تعالی نے آپﷺ کا نام “محمد” رکھا تو آپﷺ کی والدہ نے آپﷺ کا نام “احمد”کیوں رکھا؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

روایات سے دلالۃً معلوم ہوتا ہےکہ آپﷺ کے دونوں نام“محمد”اور“احمد” آپﷺ کی پیدائش سے قبل ہی آپ کے لیے من جانب اللہ طے ہو چکے تھے۔
دوسری بات یہ کہ آپﷺ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کو آپﷺ کی پیدائش سے قبل یہ الہام ہوا کہ وہ آپﷺ کا نام “محمد”یا“احمد” رکھیں،آپ کی والدہ نے یہ معاملہ آپﷺ کے دادا حضرت عبد المطلب کے سپرد کر دیا،انہوں نے آپﷺ کا نام“محمد”رکھا۔

لما فی سبل الھدی والرشاد:(1/360،نعمانیة)
قال ابن اسحاق والواقدی وغیرھما لما وضعت امنۃ سیدنا رسول اللہﷺ أرسلت إلی جدہ عبد المطلب أنہ قد ولد لک غلام فأتہ وانظر إلیہ فأتاہ ونظر الیہ وحدثتہ بما رأت حین حملت بہ وما قیل لہا وما أمرت بہ أن تسمیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر)وروی البیہقی عن أبی الحسن التنوخی أنہ لما کان یوم السابع من ولادۃ رسول اللہﷺ ذبح عنہ جدہ ودعا قریشاً فلما أکلو قالو:یا عبد المطلب! ما سمیتہ؟قال:سمیتہ “محمدا”۔۔۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر) وروی السہیلی وأبوالربیع:أن عبد المطلب إنما سماہ “محمداً”لرؤیۃ رأہا وزعمو أنہ کان مناماً کأن سلسلۃ من فضۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر) فلذالک سماہ “محمداً” مع ما حدثتہ بہ أمہﷺ
وفی البدایة والنہایة:(2/210،دار الکتب العلمیة)
قال محمد ابن اسحاق:فکانت امنۃ بنت وہب أم رسول اللہﷺ تحدث أنہا أُوتیت حین حملت برسول اللہﷺ فقیل لہا إنک قد حملت بسید ہذہ الامۃ فإذا وقع إلی الأرض فقولی: أعیذہ بالواحد۔۔۔۔۔۔ فإذا وقع فسمیہ محمداً فإن إسمہ فی التوراۃ أحمد یحمدہ أہل السموت وأہل الارض وإسمہ فی الإنجیل أحمد واسمہ فی القرآن محمد
وکذا فی دلائل النبوة:(1/159،دار الکتب)
وکذا فی سیرت ابن ہشام:(1/194،دار إحیاء)
وکذا فی الطبقات الکبری:(1/49،عمریة)
وکذا فی الطبقات الکبری:(1/48،عمریة)
وکذا فی البدایة والنہایة:(2/212،دار الکتب)
وکذا فی سبل الہدی والرشاد:(1/416،نعمانیة)
وکذا فی زاد المعاد:(1/33،علمیة)
وکذا فی الخصائص الکبری:(2/265،التوفیقیة)
وکذا فی الخصائص الکبری:(1/143،التوفیقیة)
وکذا فی صفوة التفاسیر:(3/372،دار احیاء)
وکذا فی الکشاف:(4/425،منشورات البلاغة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1443/2022/02/02
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:141

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔