سوال

اگر کسی کا والد فوت ہو جائے اور اس کا دادا ابھی زندہ ہو تو کیا اس کا دادا اپنے بیٹے کی میراث کا مستحق ہو گا؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں! میت کا والد اس کی میراث کا مستحق ہو گا چاہے میت کی اولاد ہویا نہ ہو۔

لما فی شریفیة شرح سراجیة:(18،قدیمی)
أم الأب فلہ أحوال ثلث: الفرض المطلق۔۔۔۔۔وہو السدس وذالک مع الابن وابن الابن وان سفل والفرض والتعصیب معاً وذالک مع الابنۃ او ابنۃ الابن وان سفلت۔۔۔۔۔۔۔والتعصیب المحض وذالک عند عدم الولد وولد الابن وان سفل
وفی الفتاوی الہندیة:(6/448،رشیدیة)
الأول الأب،لہ ثلثۃ أحوال:الفرض المحض وہو السدس مع الابن أو إبن الابن وإن سفل والتعصیب المحض وذالک أن لا یخلف غیرہ فلہ جمیع المال بالعصوبۃ۔۔۔۔۔۔۔ والتعصیب والفرض معاً وذالک مع البنت و بنت الابن فلہ السدس فرضاً والنصف للبنت۔۔۔۔۔۔۔۔ والباقی لہ بالتعصیب
وکذا فی المحیط البرہانی:(23/299،دار إحیاء)
وکذا فی البحر الرائق:(9/367،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(20/243،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
08/06/1443/2021/02/10
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:167

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔