سوال

ہمارے ہاں سپیئر پارٹس کا کام ہے،اس کام میں کمیشن چلتا ہے،وہ اس طرح کہ مستری گاہک کو لاتا ہے،سامان خرید کرواتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اس میں سے چار پانچ سو روپے دے دیے جائیں کیونکہ میں گاہک کو لایا ہوں۔ایک صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کے بغیر آپ کا کاروبار نہیں چلے گا۔اگر ہم ایسا نہ کریں تو سیل بہت کم ہوتی ہےکیا ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ100 والی چیز کو150 میں بیچ کر اس منافع میں سے کچھ مستری کو دے دیں؟شریعت اس بارے میں کیا فرماتی ہے کہ اس گاہک سے زیادہ تو وصول نہ کروں،ہاں اپنے منافع میں سے کچھ اس مستری کو دے دوں،کیا ایسا کرنا میرےلیے جائز ہو گا؟میں نے یہ بھی سنا ہے کہ شریعت میں منافع کی کوئی حد مقرر نہیں ہے،کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اگر کمیشن کی وجہ سے چیز کی قیمت میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ دکاندار اپنے مناسب نفع میں سے مشتری کو نفع دیتا ہے تو یہ جائز ہے،اگر کمیشن کی وجہ سے چیز کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے تو خریدار کے علم میں لائے بغیر یہ اضافہ خریدار کے ساتھ خیانت اور ظلم ہے،ہاں اگر خریدار کو یہ علم ہو جائے کہ مستری کمیشن پر کام کر رہا ہے تو چیز کی قیمت میں مناسب اضافہ جائز ہے۔
واضع رہے کہ شریعت نے نفع کی کوئی حد تو مقرر نہیں کی لیکن واضح لوٹ مار اور ظلم وزیادتی سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔مزید یہ کہ کمیشن متعین ہونا ضروری ہے،خواہ فیصد کی شکل میں یا کسی متعین رقم کی صورت میں۔

لما فی القرآن الکریم:(النساء:29)
“یآیہا الذین اٰمنوالا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلاأن تکون تجارۃ عن تراض منکم.”
وفی صحیح البخاری:(1/62،رحمانیة)
“عن أنس عن النبیﷺقال لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ.”
وکذا فی مشکوة المصابیح:(1/261،رحمانیة)
وعن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہﷺ ألا لا تظلموا ألا لایحل مال إمرء إلا بطیب نفس منہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3326،رشیدیة)
السمسرۃ ہی الوساطۃ بین البائع والمشتری لإجراء البیع والسمسرۃ جائزۃ والاجر الذی یأخذہ السمسار حلال لأنّہ أجر علی عمل وجہد معقول
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/592،دار الکتب)
وکذا فی التفسیر المنیر:(3/33،امیر حمزة)
وکذا فی التفسیر المنیر:(3/33،امیر حمزة)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(2/244،قدیمی)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(،علوم اسلامیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(15/115،بیروت)
وکذا فی فقہ البیوع:(2/1178،معارف القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/06/1443/2021/02/13
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:146

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔