الجواب حامداًومصلیاً
اگر کمیشن کی وجہ سے چیز کی قیمت میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ دکاندار اپنے مناسب نفع میں سے مشتری کو نفع دیتا ہے تو یہ جائز ہے،اگر کمیشن کی وجہ سے چیز کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے تو خریدار کے علم میں لائے بغیر یہ اضافہ خریدار کے ساتھ خیانت اور ظلم ہے،ہاں اگر خریدار کو یہ علم ہو جائے کہ مستری کمیشن پر کام کر رہا ہے تو چیز کی قیمت میں مناسب اضافہ جائز ہے۔
واضع رہے کہ شریعت نے نفع کی کوئی حد تو مقرر نہیں کی لیکن واضح لوٹ مار اور ظلم وزیادتی سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔مزید یہ کہ کمیشن متعین ہونا ضروری ہے،خواہ فیصد کی شکل میں یا کسی متعین رقم کی صورت میں۔
لما فی القرآن الکریم:(النساء:29)
“یآیہا الذین اٰمنوالا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلاأن تکون تجارۃ عن تراض منکم.”
وفی صحیح البخاری:(1/62،رحمانیة)
“عن أنس عن النبیﷺقال لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ.”
وکذا فی مشکوة المصابیح:(1/261،رحمانیة)
وعن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہﷺ ألا لا تظلموا ألا لایحل مال إمرء إلا بطیب نفس منہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3326،رشیدیة)
السمسرۃ ہی الوساطۃ بین البائع والمشتری لإجراء البیع والسمسرۃ جائزۃ والاجر الذی یأخذہ السمسار حلال لأنّہ أجر علی عمل وجہد معقول
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/592،دار الکتب)
وکذا فی التفسیر المنیر:(3/33،امیر حمزة)
وکذا فی التفسیر المنیر:(3/33،امیر حمزة)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(2/244،قدیمی)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(،علوم اسلامیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(15/115،بیروت)
وکذا فی فقہ البیوع:(2/1178،معارف القرآن)
واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/06/1443/2021/02/13
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:146