سوال

اگر کوئی شخص طلاق کے حالات وواقعات سناتے ،لکھتےاور پڑھتے وقت ذہن میں اپنی بیوی کا تصور کر لے تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ حالانکہ یقینی طور پر اس کا اپنی بیوی پر طلاق واقع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا،محض خیال اور وسوسہ آ جاتا ہے۔اس کی وضاحت فرما دیں۔

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں محض خیال اور وسوسہ کے آ جانے سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(43/148،علوم إسلامیة)
ولو حدث نفسہ أنّہ یطلّق زوجتہ أو ینذر للہ تعالی شیأ ولم ینطق بذالک لم یقع طلاقہ ولم یصح نذرہ
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(29/24،علوم إسلامیة)
وکذا فی تنقیح الفتاوی الحامدیة:(1/81،قدیمی)
وکذا فی شرح المجلة:(1/209،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(4/485،إدارة القرآن)
وکذا فی المحیط البرہانی:(4/400،إدارة القرآن)
وکذا فی غمز عیون البصائر:(1/222،إدارة القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/08/1443/2022/03/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:22

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔