سوال

رمضان شریف میں مسافر،حالت سفر میں گھر سے کھانا پکوا کر دوران سفر لے جا کر کھاتا ہے،کیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

شرعی مسافر کے لیے کھانا ساتھ لے جانے میں کوئی حرج نہیں۔

لما فی الہندیة:(1/206،رشیدیة)
منہا[من الأعذار التی تبیح الإفطار]السفر)الذی یبیح الفطر وہو لیس بعذر فی الیوم الذی أنشأ السفر فیہ
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(3/1695،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔عند الجمہور:أن ینشأ السفر قبل طلوع الفجر ویصل إلی مکان یبدأ فیہ جواز القصر۔۔۔۔۔۔إذ لا یباح لہ الفطر با الشروع فی السفر بعد ما أصبح صائماً۔۔۔۔۔۔۔فإذا شرع بالسفربأن جاوز عمران بلدة قبل طلوع الفجر جاز لہ الإفطار وعلیہ القضاء
وکذا فی رد المحتار:(3/462،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(3/465،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(3/358،ادارة القرآن)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/403،فاروقیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(28/48،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(28/48،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(28/50،علوم اسلامیة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/494،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/08/1443/2022/03/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر: 24

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔