الجواب حامداًومصلیاً
فقہاء نے اس طرح غسل کرنے کی اجازت تو دی ہے لیکن آج کل اس میں زیادہ احتیاط نہیں کی جاتی اور مستعمل پانی عموما مسجد میں گر ہی جاتا ہے،نیز اس طرح غسل کرنے سے مسجد کی بے ادبی بھی محسوس ہوتی ہے۔
البتہ آج کل ایسے عارضی غسل خانے تیار ہوتے ہیں کہ جن سے پانی مسجد میں بالکل نہیں گرتا،اگر اس طرح کا کوئی غسل خانہ بنوا لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
لما فی بدائع الصنائع:(2/284،رشیدیة)
وإن غسّل رأسہ فی المسجد فی اناء لا بأس بہ إذا لم یلوث المسجد بالماء المستعمل فإن کان بحیث یتلوّث المسجد یمنع منہ لأںّ تنظیف المسجد واجب ولو توضأ فی المسجد فی إناء فہو علی ہذا التفصیل
وفی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/223،رشیدیة)
وإن غسّلہ [الرأس ]فی المسجد فی إناء لا بأس بہ لأنّہ لیس فیہ تلویث المسجد
وکذا فی الہندیة:(1/213،رشیدیة)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/269،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/445،فاروقیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(5/220،علوم اسلامیة)
وکذا فی الدر المختار:(3/501،رشیدیة)
وکذا فی الشامیة:(3/501،رشیدیة)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/378،المنار)
واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/08/1443/2022/03/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:25