الجواب بعون الملکِ الوہاب
مرحوم نے بوقت انتقال جو جائیداد منقولہ جیسے؛سونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اور کپڑے وغیرہ یا غیر منقولہ جیسے؛دکان،مکان،فصل،پلاٹ وغیرہ؛غرض ہر چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں،یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنھیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے:1۔میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث نے خود یا کسی اور نے بطور احسان ادا کر دیے تو نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال میں سے وہ قرض ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔3۔اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جائے گا،ان حقوق کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ بچے گا،خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ ہو،اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا:
بقیہ کل ترکہ کے 24 حصے کر کے بیوی کو3حصے(٪12.5)،والد کو5 حصے(٪20.83) اور ہر بیٹی کو 8 حصے(٪33.33) دیے جائیں گے۔
لما فی قولہ تعالی:(النساء:12)
فإن کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بہا أو دین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الاٰیۃ
وقولہ تعالی:(النساء:11)
فإن کن نساء فوق اثنتین فلہن ثلثا ما ترک۔۔۔۔۔۔۔۔۔الایة
وفی السراجی:(6،شرکة علمیة)
أما الأب فلہ أحوال ثلث:الفرض المطلق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔والفرض والتعصیب معا وذالک مع الابنۃ أو ابنۃ الابن۔۔۔۔۔۔۔۔
واللہ خیر الوارثین
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/06/1443/2022/01/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:87