سوال

ایک حدیث ہے جو عام طور پربیان کی جاتی ہے کہ ایک صحابی گھر میں تشریف لے گئے تو کھانے کو کچھ نہیں تھا،صحابی مسجد میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھی۔۔۔۔۔اس طرح مسجد میں آ کر تین مرتبہ نماز پڑھی،تیسری مرتبہ نماز پڑھی تو بند چکی سے آٹا آنا شروع ہو گیا،انھوں نے گھر کے سارے برتن بھر لیے،آٹا پھر بھی نکل رہا تھا۔ان صحابی نے چکی کا پاٹ اٹھا کر دیکھا تو اس میں صرف ایک دانہ گندم کا تھا۔ ان صحابی نے یہ واقعہ حضور اقدسﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بیان کیا۔آپﷺ نےفرمایا کہ اگر تم اس کا پاٹ نہ اٹھاتے تو قیامت تک اس سے آٹا نکلتا رہتا۔ کیا یہ حدیث ہے؟وضاحت فرما دیں اور اگر یہ حدیث نہ ہو بلکہ اس سے ملتی جلتی کوئی اور حدیث ہو تو وہ بھی بیان فرما دیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

یہ واقعہ احادیث میں موجود ہے مگر کسی صحابی سے متعلق نہیں بلکہ گزشتہ امتوں میں سے کسی شخص اور اس کی بیوی کا واقعہ ہے،نیز اس میں نماز پڑھنے کا ذکر بھی نہیں ہے اور یہ بھی نہیں ہے کہ جب اس نے چکی کا پاٹ اٹھا کر دیکھا تو صرف ایک دانا گندم کا پایا جس سے آٹا نکل رہا تھا۔اب ذیل میں مسند احمد کے حوالے سے یہ روایت ذکر کی جاتی ہے

بہ قال الامام احمد ابن حنبل حدثنا عبد اللہ قال حدثنی ابی قال حدثناھاشم ابن القاسم قال حدثنا عبد الحمید(یعنی ابن بھرام) قال حدثنا شھرابن حوشب قال :قال ابو ھریرہ:بینما رجل وامرءۃ لہ فی السلف الخالی لا یقدران علی شئ فجاء الرجل من سفرہ فدخل علی امرءتہ جائعا قد اصابتہ مسغبۃ شدیدۃ فقال لامرءتہ:اعندک شئ؟ قالت نعم! ابشر اتاک رزق اللہ، فاستحثہا فقال ویحکِ!ابتغی ان کان عندکِ شئ؟ قالت نعم!ہنیئۃ نرجو رحمۃ اللہ حتی اذا طال علیہ الطِوی قال ویحک! قومی فابتغی ان کان عندکِ خبز فاتنی بہ فانّی قد بلغت وجھدت فقالت نعم، الآن ینضج التنّور فلا تعجل فلماان سکت عنہا ساعۃً وتحیّنت ایضاً ان یقول لہا قالت ہی :من عند نفسہا لو قمت ونظرت الی تنّوری، فقامت فوجدت تنورہا ملآن جنوب الغنم ورحییہا تطحنان فقامت الی الرحیٰ فنفضتہا واخرجت ما فی تنورہا من جنوب الغنم قال ابو ہریرۃ فو الذی نفس ابی القاسم بیدہ عن قول محمد ﷺ”لو اخذت ما فی رحییہا ولم تنفضہا لطحنتہا الی یوم القیمۃ
(مسند احمد:3/315،دار احیاء التراث)
(وفیہ:علی الصفحہ3/315،دار احیاء ایضا)

ترجمہ:“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ایک جگہ شوہر بیوی رہتے تھے کہ جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا، ایک مرتبہ شوہر سفر سے گھر واپس آیا،اسے شدید بھوک لگی تھی،اس نے بیوی سے کہا کھانے کو کچھ ہے تو لاؤ! بیوی نے کہا جی ہاں!آپ اطمینان رکھئے! اللہ تعالی رزق کا بندوبست کر دیں گے،شوہر نے ذرا زور دے کر کہا:تیرا بھلا ہو مجھے کھانے کو کچھ چاہیے،اگر تیرے پاس کچھ ہے تو لے آ! بیوی نے کہا ہاں!بس تھوڑی دیر صبر کیجئے ہم اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔
جب بھوک برداشت سے زیادہ ہونے لگی تو بیوی سے کہا:تیرا ناس ہو کھڑی ہو!تیرے پاس روٹی وغیرہ ہے تو ،لے آ کیونکہ مجھے شدید بھوک لگی ہے۔کہنے لگی جی ہاں بس!ابھی تندور روٹیاں لگانے کے قابل ہو جاتا ہے،آپ تھوڑا سا صبر کر لیں(جلدی نہ کریں)
پھر جب اسی طرح کہتے کہتے کافی دیر بیت گئی تو بیوی کے دل میں خیال آیا کہ جاؤں اپنے تندور کو تو ذرا دیکھوں،تندور کے پاس گئی تو اس کو بکری کی دستیوں سے بھرا ہوا پایا اور چکی سے آٹا نکل رہا تھا اور اس کا پاٹ اٹھا لیا اور بکری کی دستیاں جو تندور میں تھیں ان کو بھی نکال لیا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد مبارک نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:“اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابو القاسم ﷺ کی جان ہے،اگر وہ عورت اپنی چکی کے پاٹوں سے آٹا نکال لیتی اور اس (کے پاٹ) کو وہاں سے نہ ہٹاتی تو وہ چکی قیامت تک آٹا پیستی رہتی۔

وکذا فی المسند الجامع:(18/371،372،دار الجیل،بیروت)
وکذا فی مجمع الزوائد:(10/325،دار الکتب العلمیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ تعالی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/03/1443/2021/09/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:105

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔