سوال

شرعی سفرمیں چاررکعت والی فرض نمازتونصف ہوجاتی ہے،پوچھنایہ ہےکہ سفرمیں سنن مؤکدہ وغیرمؤکدہ اورنوافل پڑھناضروری ہےیانہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرآسانی سےسنن ونوافل پڑھناممکن ہوتوپڑھ لینابہترہےاوراگردشواری ہوتوچھوڑنےکی گنجائش ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1371،رشیدیہ)
قال النووی:قداتفق الفقھاءعلی استحباب النوافل المطلقۃفی السفر،واختلفوافی استحباب النوافل الراتبۃ…واستحبھا الشافعی وﺃصحابہ والجمھور
وقال الحنفیۃ:ویأتی المسافربالسنن الرواتب ﺇن کان فی حال ﺃمن وقرارﺃی نازلاًمستقرًا،وﺇلابأن کان فی حال خوف وفرار،ﺃی فی السیرلایأتی بھاوھوالمختار
وفی الھندیة:(1/139،رشیدیہ)
وبعضہم جوزواللمسافرترک السنن،والمختارﺃنہ لایأتی بھافی حال الخوف. ویأتی بھافی حال القراروالأمن.ھکذافی الوجیزللکردی
وکذافی الشامیة:(2/131،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(2/229،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الأنھر:(1/239،المنار)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/384،ادارةالقرآن)
وکذافی البدائع:(1/260،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(1/248،دارالمعرفة )
وکذافی التاتارخانیة:(2/489،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1443/2022/3/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:184

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔