الجواب حامداً ومصلیاً
قاعدہ یہ ہےکہ فوت شدہ نمازوں کی قضاءاسی طریقےپرہوتی ہےجس طریقےپروہ فوت ہوتی ہیں،لہذا مسافراگردورانِ سفر اُن نمازوں کی قضاءکرناچاہےجواُس سےحالتِ حضرمیں فوت ہوئی ہیں،توچاررکعت والی نمازکوچاررکعت ہی پڑھےگا۔اورمقیم اگر دورانِ اقامت ان نمازوں کی قضاءکرناچاہےجواُس سےحالتِ سفرمیں چھوٹ گئی ہیں،تووہ چاررکعت والی نمازوں میں قصرکرتے ہوئےدو رکعت پڑھےگا۔چنانچہ صورتِ مسئولہ میں قصرطریقےسےقضاءکریں۔
لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1153،رشیدیہ)
قال الحنفیۃ:تقضی الصلاۃعلی الصفۃالسابقۃالتی فاتت علیھاحضرًاﺃوسفرًا،فمن فاتتہ صلاۃمقصورۃفی السفر،قضاھا رکعتین ولوفی لحضر.ومن فاتتہ صلاۃتامۃفی الحضر،قضاھاﺃربعاًولوفی السفر
وفی الموسوعةالفقہیة:(34/29،اسلامیہ)
ذھب الحنفیۃوالمالکیۃوالثوری إلی ﺃن الفائتۃتقضی علی الصفۃالتی فاتت إلالعذروضرورۃ،فیقضی المسافرفی السفر مافاتہ فی الحضرمن الفرض الرباعی ﺃربعاً،والمقیم فی الإقامۃمافاتہ فی السفرمنھارکعتین
وکذافی الھندیة:(1/121،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(2/135،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(2/141،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/215،امدادیہ)
وکذافی المختصرالقدوری:(36،الخلیل)
وکذافی الھدایة:(1/176،المیزان)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/315،الطارق)
وکذافی مجمع الأنھر:(1/243،المنار)
وکذافی التاتارخانیة:(2/523،فاروقیہ)
وکذا فی البدائع:(1/563،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/8/1443/2022/3/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:112