سوال

ہم سنیاروں کےپاس کان اورناک چھیدنےکی مشین ہوتی ہے،جس سےہم عورتوں،بچیوں کےناک اورکان چھیدتےہیں اسی طرح عورتوں،بچیوں کوبُندے،بالیاں اورپازیب وغیرہ پہناناپڑجاتی ہیں۔اگربغیرچھوئے،مس کیےیہ امورسرانجام دیں توجائزہےیانہیں؟بسااوقات گاہک مجبورکرتےہیں کہ آپ ناک اورکان چھیددیں،بالیاں وغیرہ پہنادیں۔اگردُکانداریہ کام نہ کریں توگاہک دوسری دکان پرچلےجاتےہیں،پھرزیورات بھی انہیں سےبنواناشروع کردیتےہیں اس میں ہمارانقصان ہوتاہے۔وضاحت فرمادیں

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں چونکہ غیرمحرم مردکےسامنےعورت کےچہرےکاکھلنالازم آرہاہےاورچھونےکابھی غالب گمان پایاجارہاہےاوراس میں کوئی شرعی ضرورت بھی نہیں ہے،اس لیےیہ کام مردکےلیےکرناجائزنہیں ہے۔نیزیہ کام گھروں میں عورتوں اورلیڈی ڈاکٹرسےبھی لیےجاسکتےہیں۔

لما فی تنویرالابصارمع الدر:(1/406،سعید)
وتمنع)المرأۃالشابۃ(من کشف الوجہ بین رجال)لالأنہ عورۃبل(لخوف الفتنۃ)کمسہ وإن أمن الشھو،لأنہ أغلظ ولذاثبت بہ حرمۃالمصاھرۃ
وفی الھندیة:(5/329،رشیدیہ)
النظرالی وجہ الأجنبیۃاذالم یکن عن شھوۃلیس بحرام لکنہ مکروہ کذافی السراجیۃولایحل لہ أن یمس وجھھاولاکفھاوان کان یأمن الشھو
وکذافی مجمع الانھر:(1/122،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2651،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(10/152،دارالمعرفة)
وکذافی البحرالرائق:(1/470،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/178،الطارق)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(323،زمزم)
وکذافی البدائع:(4/295،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/1202/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:34

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔