الجواب حامداً ومصلیاً
صورتِ مسئولہ میں چونکہ غیرمحرم مردکےسامنےعورت کےچہرےکاکھلنالازم آرہاہےاورچھونےکابھی غالب گمان پایاجارہاہےاوراس میں کوئی شرعی ضرورت بھی نہیں ہے،اس لیےیہ کام مردکےلیےکرناجائزنہیں ہے۔نیزیہ کام گھروں میں عورتوں اورلیڈی ڈاکٹرسےبھی لیےجاسکتےہیں۔
لما فی تنویرالابصارمع الدر:(1/406،سعید)
وتمنع)المرأۃالشابۃ(من کشف الوجہ بین رجال)لالأنہ عورۃبل(لخوف الفتنۃ)کمسہ وإن أمن الشھو،لأنہ أغلظ ولذاثبت بہ حرمۃالمصاھرۃ
وفی الھندیة:(5/329،رشیدیہ)
النظرالی وجہ الأجنبیۃاذالم یکن عن شھوۃلیس بحرام لکنہ مکروہ کذافی السراجیۃولایحل لہ أن یمس وجھھاولاکفھاوان کان یأمن الشھو
وکذافی مجمع الانھر:(1/122،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2651،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(10/152،دارالمعرفة)
وکذافی البحرالرائق:(1/470،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/178،الطارق)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(323،زمزم)
وکذافی البدائع:(4/295،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/1202/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:34