سوال

ایک شخص کا کاروباردبئی میں ہےاوروہ وہیں رہتاہے،لیکن اس کااصل گھرپاکستان میں ہے،تووہ کس ملک کے اعتبارسےصدقہ فطراداکرے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صدقہ فطرکی ادائیگی میں اسی جگہ کااعتبارہوتاہےجہاں صدقہ اداکرنےوالاخودموجودہے۔لہذاصورتِ مسئولہ میں یہ شخص دبئی کےاعتبارسےصدقہ فطراداکرےگا۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1977،رشیدیہ)
والمعتبرعندالحنفیۃوالشافعیۃوالحنابلۃفی زکاۃالمال:المکان الذی فیہ المال،والمعتبرفی صدقۃالفطر:المکان الذی فیہ المتصدق ،اعتبارًابسبب الوجوب فیھما
وفی الھندیة:(1/190،رشیدیہ)
ثم المعتبرفی الزکاۃمکان المال حتی لوکان ھوفی بلد ومالہ فی بلدآخریفرق فی موضع المال،وفی صدقۃالفطریعتبرمکانہ لامکان ﺃولادہ الصغاروعبیدہ فی الصحیح
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(23/345،اسلامیہ)
وکذافی البدائع:(2/208،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(3/106،دارالمعرفة)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/387،ادارةالقرآن)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/305،امدادیہ)
وکذافی الشامیة:(2/355،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(2/436،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(3/462،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/246،حرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1443/2022/3/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:185

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔