سوال

ایک مسجدکا،کارپٹ تبدیل کیاجارہاہےتوپراناکارپٹ کسی دوسری مسجدمیں دےسکتےہیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرپراناکارپٹ مسجدکےکسی کام کانہیں ہےتواگرکسی ایک شخص نےدیاہوتواسی کی اجازت سےدوسری مسجدکودےسکتے ہیں۔اوراگرمسجدکےفنڈسےخریداگیاتھاتوانتظامیہ یامتولی کی اجازت سےدوسری مسجدکوقیمت یابلاقیمت دےسکتےہیں۔

لما فی الھندیة:(2/458،رشیدیہ)
رجل بسط من مالہ حصیرافی المسجد.فخرب المسجدووقع الاستغناءعنہ فإن ذلک یکون لہ ان کان حیاولوارثہ ان کان میتا.وعندأبی یوسفیباع ویصرف ثمنہ الی حوائج المسجد.فإن استغنی عنہ ھذاالمسجدیحول الی مسجدآخر
وفی التاتارخانیة:(8/165،فاروقیہ)
وکذالواشتری حشیشاللمسجدأوقندیلافوقع الاستغناءعنہ کان ذلک لہ إن کان حیاولوارثہ إن کان میتا.والصحیح من مذھب أبی یوسف فی”فصل الحصیر”أنہ لایعودالی ملک صاحبہ بخراب المسجدبل یحول الی مسجدآخرأویبیعہ قیم المسجدللمسجد
وکذافی المبسوط للسرخسی:(12/42،دارالمعرفة)
وکذافی البحرالرائق:(5/423،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(6/22،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(4/358،59،سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/128،ادارةالقرآن)
وکذافی جوھرةالنیرة:(2/38،قدیمی)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(4/424،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحاوی:(2/537،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/5/1443/2021/12/24
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:38

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔