سوال

عمر زید کے پاس کوئی چیز لینے گیا ، لیکن وہ چیز زید کے پاس نہیں تھی ۔ زید نے کہا میں لاہور سے منگوادیتا ہوں پھر دونوں اتفاقاً (اپنے اپنے کام سے)لاہور گئے ۔ وہاں دوکاندارسے زید نے معاملہ طے کیا ،عمر نے صرف چیز کو پسند کیا ، چیز کی قیمت کچھ عمر نے اور کچھ زید نے ادا کی ، دوکاندار نے زید کو کہا : میں نے آپ کا نفع رکھ کر بیچا ہے، لیکن عمر کو اس کا علم نہیں، البتہ اتنی بات عمر بھی جانتا ہے کہ زید معروف بالاجرۃ ہے ۔ کیا زید کے لیے یہ رقم رکھنا جائز ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں زید کے لیے یہ رقم رکھنا جائز ہے ، کیونکہ یہ دوکاندار کی طرف سے تبرع ہے ۔ اورزید کے معروف بالاجرۃ ہونے کی وجہ سے ، عمر کو اس کا علم نہ ہونا کوئی مضر نہیں ہے ۔

لما فی المبسوط للسرخسی:(15/115،بیروت)
والسمسار اسم لمن یعمل للغیر بالاجرۃ بیعاً وشراءً و مقصودہ من ایراد الحدیث بیان جواز ذالک
وفی رد المحتار:(6/48،سعید)
اجارۃ السمسار والمنادی……. تجوز لماکان للناس حاجۃ ویطیب الاجر الماخوذ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(5/3326،رشیدیہ)
وکذافی تحفة الاحوذی:(4/448،قدیمی)
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/303،قدیمی)
وکذافی التاتارخانیة:(15/136،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(10/65،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:86

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔