الجواب حامداً ومصلیاً
محض بیٹے کی ساس ہونا ، نکاح سے مانع نہیں ہے ۔ اس لیے صورت مسئلہ میں نکاح جائز ہے ، بشرطیکہ کوئی اور وجہ نکاح کے عدم جواز کی نہ ہو ۔
لما فی ردالمحتار:(3/31،سعید)
ولاتحرم بنت زوج الام…… ولا ام زوجۃ الابن
وفی الھندیة:(1/277،رشیدیہ)
لاباس بان یتزوج الرجل امراۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(2/208،قدیمی)
وکذافی تفسیرالمنیر:(3/9،امیرحمزہ)
وکذافی معالم التنزیل:(1/413،بیروت)
وکذافی البدائع:(2/531،رشیدیہ)
وکذافی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/587،بیروت)
وکذافی الھندیة:(1/273،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:17