الجواب حامداً ومصلیاً
اگر غالب گمان ہو کہ اس کا جسم ابھی تک سلامت ہے تو صورت مسئولہ میں نماز جنازہ اس کی قبر پر پڑھا جائے ، اور غسل ساقط ہوگا۔
لما فی التنویر مع الدر:(2/224،سعید)
وان دفن) واھیل علیہ التراب بغیر صلاۃ او بھا بلاغسل او ممن لاولایۃ لہ( صلی علی قبرہ) استحسانا (مالم یغلب علی الظن تفسخہ)من غیر تقدیر والاصح
وفی الولوالجیة:1(155/،حرمین)
اذادفن قبل ان یغسل ویصلی علیہ یصلی عی قبرہ لانہ صار بحال تعذر غسلہ
وفی البدائع:(2/55،رشیدیہ)
والآن فات الامکان فسقطت الطھارۃ فیصلی علیہ اما قبل مضی ثلاثۃ ایام فلما روینا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی علی قبر تلک المراۃ
وکذافی المبسوط:(2/69،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(3/79،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة:(1/163،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1442/2020/12/8
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:1