سوال

ایک سرکاری سکول کے چند اساتذہ نے مل کر ایک خادم رکھا ہو ا ہے جس کو وہ ما ہا نہ تنخواہ اپنے پیسوں سے دیتے ہیں ان کا پو چھنا یہ ہے کہ آیا وہ زکوۃ یا عشر کے پیسوں سے اس کو تنخواہ دے سکتے ہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

زکوۃ یاعشر کی رقم اجرت یامزدوری میں نہیں دی جاسکتی بلکہ کسی مستحق کوبلامعاوضہ دیناچاہیے۔

لما فی الھندیة:(1/190،رشیدیة)
و لو نوی الز کاۃ بما یدفع المعلم الی الخلیفۃ و لم یستأجر ہ ان کان الخلیفۃ بمال لو لم یدفعہ یعلم الصبیان أیضا اجزأہ و الا فلا و کذا ما یدفعہ الی الخدم من الر جال و النساء فی الا عیاد و غیر ھا بنیۃ الزکاۃ
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(239،البشری)
یجوز أن یدفع الز کاۃالی خدمہ ای :الذین استأجر ھم للخدمۃ ولا یحسب ذلک من أجرتھم
وکذافی الدر المختار:(2/356،ایچ ایم سعید)
وکذا فی البحر الرائق:(2/352،رشیدیة)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/243،رشیدیة)
وکذا فی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/86،رشیدیة)
وکذا فی البنایة:(3/562،رشیدیة)
وکذا فی التاتار خانیة:(3/218،فارقیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(1/432،رشیدیة)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(1/457،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/5/1442/2020/12/20
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:36

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔