سوال

ایک باوضوآدمی کے جسم سے خون کی بو تل حاصل کی جائے تو کیا اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ؟جبکہ یہ خون جسم پربہا نہیں ہے، بلکہ بذریعہ سرنج صرف خون والی تھیلی میں پہنچا ہے ۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں جسم سے نکل کر دوسری جگہ قرار پکڑ لینا یہ بہنے ہی کے حکم میں ہے ،لہذا اس سے وضو ٹوٹ جائیگا۔

لما فی المحیط البر ھانی :(1/197،دار احیاء تراث)
العلقۃ اذا أخذت بعض جلد انسان و مصت حتی امتلأت من دمہ بحیث لو سقطت لسال انتقض الوضوء لأن الدم فیہ سائل
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/38،رشیدیة)
اذامصتہ العلقۃ وامتلأت من الدم نقض الوضوء لانھا لو شقت لخرج منھادم سائل والقراد اذاکان صغیر ا فھو بمنزلۃ البعوض والذباب لا ینقض الوضوء وان کان کبیرا یخرج منھا دم سائل فھو بمنزلۃ العلقۃ
وکذافی الھندیة:(1/197،رشیدیة)
وکذا فی فتاوی النوازل :(50،الحقانیة)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(30،زمزم)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/17،رشید یة)
وکذافی التاتار خانیة :(1/45،فاروقیة)
وکذافی البزازیة:(4/12،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(1/40،رشیدیة)
وکذافی الولوالجیة :(1/47،الحرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:90

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔