سوال

ایک صاحب سنت کی نیت سے اپنے پاس عصارکھنا چاہتے ہیں تو اس کی مسنون مقدار بیان فرما دیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

عصا کی لمبائی کے متعلق شمائل کبری میں لکھا ہے

حضرت موسی علیہ السلام کا عصا ان کی قامت کے برابر تھا جوبارہ ہاتھ تھا ایک قول میں اس کی لمبا ئی دس ذراع تھی جو آپ کی قامت سے کم تھا۔فائدہ :اس سے معلوم ہوا کہ عصاکی لمبا ئی عصا رکھنے والے کی قامت کے برابر ہو سکتی ہے اس سے چھوٹی بھی ہو سکتی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے عصاکی لمبائی کا علم نہ ہوسکا ۔ (شمائل کبری:2/402 ،زمزم)

لما فی البحر المحیط:(6/221،دار الکتب العلمیة)
و ھذہ العصا أخذھا من بیت عصی الأنبیاء التی کا نت عند شعیب حین اتفقاعلی الرعیۃ ھبط بہاآدم من الجنۃ وطولھا عشرۃ أذرع وقیل اثنتا عشرۃ بذراع مو سی علیہ السلام
وفی روح المعانی :(16/174،داراحیاء التراث العربی)
وقال وھب :کانت من العوسج وطولھا عشرۃ أذرع علی مقدار قامتہ علیہ السلام وقیل اثنتاعشرۃ ذراعا بذراع مو سی علیہ السلام

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:119

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔