الجواب حامداً وّمصلّیاً
طلاق کے بعد اس عورت کے اگر تین حیض گزر گئے ہیں یا وہ حاملہ تھی اور وضع حمل ہو چکا ہے تو عدت گزر گئی ،ورنہ نہیں اور اگر اس کو حیض نہیں آتا تو تین ماہ گزر جانے کی وجہ سے اس کی عدت پوری ہوگئی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر عورت کی عدت پوری نہیں ہوئی تو شوہر بیوی سے بغیر نکاح کے رجوع کر سکتا ہے اور بقیہ ایک یا دو طلاق کا مالک ہوگا اور اگر عورت کی عدت پوری ہوگئی ہے تو عورت بائنہ ہوگئی ہے ،لہٰذا نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے اور اس کو بقیہ ایک یا دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
لما فی القرآن الکریم:(البقرة:228.229)
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ…….وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا……..الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
و قال تعالٰی فی مقام آخر:(الطلاق:4)
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ
وفی المبسوط للسرخسی:(6/13.15،دار المعرفة بیروت)
وإذا طلقها واحدة أو ثنتين فهو يملك الرجعة ما لم تنقض العدۃ….. وعدة التي تحيض ثلاث حيض كما قال الله تعالى في كتابه {ثلاثة قروء} [البقرة: 228]،……..وعدة الحامل أن تضع حملها ولو وضعت حملها بعد الطلاق بيوم……..وعدة الآيسة والصغيرة ثلاثة أشهر بالنص
وفی الھندیة:(1/526،رشیدیة کوئٹہ)
واذا طلق الرجل امرأتہ طلاقا بائنا او رجعیا……وھی حرۃ ممن تحیض فعدتھا ثلاثۃ اقراء……والعدۃ لمن لم تحض لصغر او کبر او بلغت بالسن و لم تحض ثلاثۃ اشھر
وکذافیه ایضا:(1/473، رشیدیة کوئٹہ) وکذافی صحیح البخاری:(2/313،رحمانیة لاھور)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/549، رشیدیة کوئٹہ) وکذافی الھدایة:(2/373.401، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی التنویر مع شرحه:(3/409 ،ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی) وکذافی بدائع الصنائع:(3/ 283.289، رشیدیة کوئٹہ)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
62/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:115