الجواب حامداً ومصلیاً
صورتِ مسئولہ میں بیٹے نے کسی دینی بات کا انکار اور استہزاءوغیرہ نہیں کیا ،بلکہ حالات کے ناموافق ہونے کی وجہ سے باپ کو شادی نہ کرنے کاصرف مشورہ دیا ہے۔جس کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوا۔لہٰذا باپ کا بیٹے کو کافر کہنا ناواقفیت پر مبنی ہے۔
لما فی الصّحیح لمسلم:(1/82،رحمانیة لاھور)
عن ابن عمر انّ النّبی صلّی اللّہ علیہ وسلّم قال:اذا اکفر الرجل اخاہ فقد باء بھا احدھما
وفی نیل الاوطار:(1/339،دار الباز مکة المکرّمة)
ادخال کافر فی الملّۃ واخراج مسلم منھا عظیم فی الدین
وکذافی الھدایة:(2/513،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی البحر الرائق:(1/613،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی سنن ابی داوٗد:(1/365،رحمانیة لاھور)
وکذافی فتح الملھم:(1/427،دار العلوم کراچی)
وکذافی شرح العقائد:(121.90،مجیدیة ملتان)
وکذافی صحیح البخاری:(1/69.61،رحمانیة لاھور)
وکذافی الدر المختار مع شرحه:(4/223.221،ایچ.ایم.سعیدکراچی)
واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/4/1442/2020/12/9
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:29