سوال

کیا حکم ہے شریعت مطہرہ کادرج ذیل مسائل کے بارے میں،کہ:(1)دو بیویوں کے درمیان کن چیزوں میں عدل ضروری ہے؟(2)میری دو بیویاں ہیں:ایک شہر میں اور دوسری دیہات میں رہتی ہے۔شہر اور دیہات کی زندگی میں اخراجات کا تفاوت ہونے کے سبب ،میں شہروالی کو زیادہ خرچ دیتا ہوں ،کیا ایسا کرنا درست ہے؟(3)ایک بیوی سے میرے تین بیٹے ہیں اور دوسری سے ایک،اگر میں فی بچہ دس ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے تین بچوں والے گھر کو تیس ہزار اور دوسرے گھر میں ایک بچے کو پندرہ ہزار دوں ،تو یہ تفاوت جائز ہے؟یا اولاد کے خرچہ میں برابری لازم ہے؟(4)میں سعودیہ مقیم ہوں۔اپنے بیوی ،بچوں کو وزٹ پر بلاتا ہوں۔جس زوجہ سے میرے تین بیٹے ہیں ان کو وزٹ پر بلانے سے زیادہ پیسے لگتے ہیں۔بسا اوقات اس کا تحمل نہیں کر پاتا،نیز بچوں کی تعلیم بھی متأثر ہوتی ہے،تو اگر میں ایک بچے والی زوجہ کو زیادہ اور دوسری کو کبھی کبھی وزٹ پر بلاؤں تو یہ میرے لیے جائز ہے؟اور ایک کو وزٹ پر بلاتے وقت دوسری بیوی کو بتانا ضروری ہے؟(5)فون پر بات کرتے ہوئے اگر میں نے ایک زوجہ سے ایک گھنٹہ بات کر لی،جبکہ دوسری سے آدھا گھنٹہ بات کر لی یا کچھ دن بات نہ کر سکا تو ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

(1)

ایک سے زائد بیویوں کے درمیان تمام اختیاری امور مثلاً کھانے پینے کی چیزوں میں،رہائش و لباس میں،رات گزارنے میں اور دیگر سہولیات میں برابری کرنا ضروری ہے،بیویوں کو وزٹ پر بلانا اور ان سے فون پر بات کرنا بھی،اختیاری امور میں داخل ہےاور غیر اختیاری امور مثلاً جماع اور محبت وغیرہ میں برابری ضروری نہیں۔(2)بچوں کے درمیان ضروریات کے اعتبار سے خرچہ میں کمی و زیادتی کرنا جائز ہےاور تمام کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے برابر خرچہ دینا مستحب ہےاور کسی پر ظلم کا ارادہ ہوئے کم خرچہ دینا جائز نہیں ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(النساء:129)
وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا
وفی جامع الترمذی:(1/345،رحمانیة لاھور)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:إذا كان عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط
وفی التنویر مع شرحه:(3/201،ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی)
يجب أن يعدل فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب
وفی الشامیة:(4/444، ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی)
فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى
وفی الموسوعة الفقھیة:(33/184.185،علوم اسلامیة چمن)
ذهب الفقهاء إلى أنه يجب على الزوج العدل بين زوجتيه أو زوجاته في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة والسكنى، وهو التسوية بينهن في ذلك،………والعدل الواجب في القسم يكون فيما يملكه الزوج ويقدر عليه من البيتوتة والتأنيس ونحو ذلك، أما ما لا يملكه الزوج ولا يقدر عليه كالوطء ودواعيه، وكالميل القلبي والمحبة. . فإنه لا يجب على الزوج العدل بين الزوجات في ذلك لأنه مبني على النشاط للجماع أو دواعيه والشهوة، وهو ما لا يملك توجيهه ولا يقدر عليه
وکذافی الھندیة:(1/340،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی جامع الترمذی:(1/345، رحمانیة لاھور)
وکذافی صحیح البخاری:(1/454، رحمانیة لاھور)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(5/217،دار المعرفة بیروت)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(2/68.71،دار العلوم کراچی)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:35

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔