الجواب حامداً وّمصلّیاً
لوگوں کو گھر بنانے کے لیے بینک جو رقم دیتے ہیں،اس میں روایتی سودی بینکوں کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ ضرورت مند کو متعین وقت تک کے لیے رقم قرض دیتے ہیں اور اس پر سود وصول کرتے ہیں۔ضرورت مند خواہ اس رقم سے گھر بنائے یا اس کو کسی دوسرے استعمال میں لائے ،بینک کو اس سے کچھ سروکار نہیں ہوتا۔یہ طریقہ چونکہ سود پر مبنی ہے،لہٰذا یہ ناجائز اور حرام ہے۔
اسلامی بینک،جن میں”میزان بینک “سرفہرست ہے،یہ گھر بنانے کے لیے شرکتِ متناقصہ کے طور پر رقم دیتے ہیں۔اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ گھر بنانے کے لیے کچھ رقم ضرورت مند دیتا ہے اور باقی رقم بینک دیتا ہے۔اس طرح وہ گھر ضرورت مند اور بینک کے درمیان مشترک ہو جاتا ہے۔گھر میں بینک کے حصوں کو چھوٹے چھوٹے یونٹس پر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ضرورت مند ان یونٹس کا کرایہ دیتا رہتا ہےاور ساتھ ساتھ ان یونٹس کو خریدتا بھی رہتا ہے۔جن حصوں کو وہ خرید لیتا ہےان کا کرایہ نہیں دینا پڑتا۔بینک کے حصوں کا کرایہ دینے اور ان کو خریدنے کا ضرورت مند شروع میں وعدہ کرتا ہے۔ضرورت مند جب بینک کے حصوں کوخرید لیتا ہے تو وہ اس گھر کامکمل مالک بن جاتا ہےاور بینک کو کرایہ دینا بند کر دیتا ہے۔یہ سارا معاملہ شرعاً درست ہے۔لہٰذا”میزان بینک“کی گھر بنوانے والی اسکیم”میرا گھر،میرا پاکستان“سے گھر بنانے کےلیے رقم لینا جائز اور دیگر سودی بینکوں سے گھر بنانے کے لیے سود پر قرض لینا ناجائز اور حرام ہے۔
لما فی القرآن الکریم:(البقرة:275)
اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا
وفی عمدة القاری:(13/73،دار احیاءالتراث العربی بیروت)
“وحرم کل قرض جر منفعۃ.”
وفی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/248،معارف القرآن کراچی)
ونظراً الی ھذا ظھرت فی معظم البلاد الیوم مؤسسات تقوم بتمویل الناس لشراء المساکن او بنائھا،ولکن اکثرھا انما تعمل فی اطار النظام الربوی فتقدم الی عملائھا قروضا ،وتطالبھم علی ذلک بالفائدۃ المعینۃالمتفق علیھا فی عقد التمویل ،وبما ان ھذا العقد یقوم علی اساس الربا وھو من اکبر المحرمات التی نھی عنھا اللہ سبحانہ وتعالی فی کتابہ المجید ،فانہ لا یجدر بأی مسلم ان یدخل فی عقد یقوم علی الاساس الفاسد
وفیه ایضاً:(1/261)
نعم یجوز ان تحدث بینھم اتفاقیةیتواعدان فیھا بالدخول فی ھذہ العقود ،فیتفقان علی انھما یشتریان الدار الفلانیة بمالھما المشترک،ثم یوجر الممول حصتہ الی العمیل باجرۃ معلومۃ، ثم یشتری العمیل حصۃ الممول باقساط متعددۃ الی ان یتملک الدار کلھا
وکذافیه ایضاً:(1/259)
وکذافی الھندیة:(3/209،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(300/4.84,275/5، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی الدر المختار:(299,300/4.166/5.47,48/6،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:200