الجواب حامداً ومصلیاً
بعض فتاوی مثلًا فتاوی دارالعلوم کراچی (3/445،ادارۃ المعارف)،فتاوی دارالعلوم زکریا (4/229،زمزم) ،فتاوی حقانیہ(4/521،حقانیہ) اور فتاوی دارالعلوم دیوبند(9/184،دار الاشاعت) میں مذکور ہے کہ ان الفاظ سے طلاق و ظھاروغیرہ کچھ واقع نہ ہو گا،جبکہ احسن الفتاوی (5/404،سعید)میں مفتی رشید احمدصاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عرف میں یہ الفاظ چونکہ طلاق ہی کے لیے استعمال ہونے لگے ہیں ،لہذا بغیر طلاق کی نیت کیے بھی ایک طلاق صریح بائن واقع ہو گی،لیکن امداد الفتاوی (2/476، دارالعلوم کراچی) میں حضرت تھانوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ کنائی الفاظ ہیں، لہذا اگر ان سے طلاق کی نیت کی تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی ورنہ نہیں۔
ہماری ناقص رائے میں حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کا قول راجح ہے،لہذا مذکورہ صورت میں اگر طلاق کی نیت تھی تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی اب رجوع کے لیے تجدید نکاح ضروری ہے اور اگر طلاق کی نیت نہ تھی تو ظھار وطلاق کچھ واقع نہ ہو گا۔
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:50